| 87873 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میری شادی 2011 میں میری مرضی سے خالہ زاد افتخار احمد سے ہوئی، جس پر میرے اہل خانہ کو تحفظات تھے۔ نکاح کے بعد افتخار نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے دوبارہ پرانے کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار کی، نفقہ نہیں دیتا تھا، عید پر صرف ایک جوڑا دیتا، زیور میں سے دو کڑے ساس نے زبردستی واپس لیے، حق مہر (50,000) کی معافی پر دباؤ ڈالا گیا جو میں نے معاف نہیں کیا۔ افتخار نے بے روزگاری میں میرا زیور بیچ کر کاروبار کیا، جسمانی و ذہنی تشدد کرتا، غیر محرم خواتین سے تعلقات میں ملوث رہا، حتیٰ کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولتا رہا۔
جنوری 2023 میں بغیر اطلاع اسلام آباد چلا گیا، میں بچوں کو لے کر والد کے گھر چلی گئی۔ بعد میں افتخار بچوں کو سیر کے بہانے لے گیا اور مجھے تشدد کر کے قید کر لیا، بھائیوں کی مداخلت سے میں واپس آئی۔ والد کے انتقال کے بعد میں خود بچوں کی کفالت کر رہی ہوں۔ افتخار نے نہ بچوں کا خرچہ دیا، نہ صلح کی شرط (ذاتی یا کرائے کا گھر) مانی، طلاق دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ساری زندگی لٹکائے رکھوں گا۔ میں نے عدالت میں خلع کا دعویٰ کیا، تین بار بلانے کے باوجود وہ پیش نہ ہوا، جس پر عدالت نے یک طرفہ خلع دے دی۔ بعد میں افتخار نے صلح کے بدلے جھوٹا حلف نامہ بھیجا جس میں میرے والدین کی کردار کشی کی گئی۔کیا مذکورہ حالات میں عدالت سے حاصل کردہ یک طرفہ خلع شرعاً معتبر ہے؟
تنقیح:سائلہ سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اُس نے عدالت میں گواہوں (شہادت) کے ذریعے فسخِ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب ثابت نہیں کیا، بلکہ عدالت نے شوہر کو تین نوٹس بھیجے، اور شوہر کے حاضر نہ ہونے پر عدالت نے یک طرفہ فیصلہ سنا دیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین ) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ لہٰذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے ، شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یک طرفہ فیصلہ شرعاً نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے، جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسح نکاح کا اختیار جج کو صرف غیر معمولی حرج کی صورتوں میں حاصل ہوتا ہے۔جیسے :
ا۔ شوہر نامرد ہو۔
2۔متعنت ہو ، یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہو اور نہ طلاق دیتا ہو۔
3۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔
4۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو، لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو اور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہو۔
5۔ ایسا پاگل ہو یا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، نیز فسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے، اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعانافذ نہیں ہوتا۔ ( فقہی مقالات : 192/2)
مثلاً، ایک شرط یہ ہے کہ عورت مذکورہ بالا وجوہ میں سے جس وجہ کی بنیاد پر بھی فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے ،اسے اپنے دعوی کو شرعی شہادت (کم از کم دو نیک و صالح مردوں یا انہی صفات کی حامل دو عورتوں اور ایک مرد کی گواہی) سے ثابت کر نا پڑے گا، شرعی شہادت کے بغیر محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر عدالت کو فسح نکاح کا حق حاصل نہیں۔
صورت مذکورہ میں سائلہ نے اپنے دعوی کو گواہوں کے ذریعے ثابت نہیں کیا، بلکہ عدالت نے محض اس کے دعوی اور شوہر کے حاضر نہ ہونے کی بنیاد پر خلع کی ڈگری جاری کی ہے ، اس لئے عدالت کی جانب سے جاری کی گئی ڈگری شرعاً معتبر نہیں اور جب تک اس خاتون کا شوہر اسے طلاق یا خلع نہ دے وہ اس کے نکاح میں رہے گی۔ (مأخوذ از تبویب 87257)
حوالہ جات
بدائع الصنائع : (315/4)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
المبسوط للسرخسي (173/6):
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
04 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


