03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تکبیرِ اُولیٰ کی فضیلت کب تک باقی رہتی ہے؟
87872نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

تکبیرِ اُولیٰ کی حد کیا ہے؟ کب تک نماز میں شامل ہونے سے تکبیرِ اُولیٰ شمار کی جائے گی اور اس کی فضیلت حاصل ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تکبیرِ اُولیٰ کی فضیلت کب تک باقی رہتی ہے؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں: بعض کے نزدیک ثناء کے اختتام تک، بعض کے نزدیک نصف فاتحہ تک، بعض کے نزدیک فاتحہ کے آخر تک، اور بعض کے نزدیک پہلی رکعت کے رکوع کے اختتام تک یہ فضیلت رہتی ہے۔ اس آخری قول کی علامہ شامی رحمہ اللہ نےتصحیح فرمائی ہے، اور اسے "اوسع" قرار دیا ہے۔ لہٰذا مکمل کوشش یہی ہونی چاہیے کہ مقتدی امام کے تکبیرِ تحریمہ کہنے کے وقت موجود ہو اور اسی کے ساتھ تکبیر کہہ لے۔ البتہ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے امام کی تکبیرِ تحریمہ کے وقت مقتدی موجود نہ ہو سکا، تو پہلی رکعت کے رکوع تک شامل ہونے سے بھی تکبیرِ اُولیٰ کا ثواب مل جانے کی اللہ سے امید رکھے۔

حوالہ جات

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح – (1 / 172)

واختلف في إدراك فضل التحريمة على قولهما فقيل إلى الثناء كما في الحقائق وقيل إلى نصف الفاتحة كما في النظم وقيل في الفاتحة كلها وهو المختار كما في الخلاصة وقيل إلى الركعة الأولى وهو الصحيح كما في المضمرات.

وفی الشامیة (2/293)

وتظهر فائدة الخلاف في وقت إدراك فضيلة تكبيرة الافتتاح فعنده بالمقارنة وعندهما إذا كبر في وقت الثناء وقيل بالشروع قبل قراءة ثلاث آيات لو كان المقتدي حاضرا وقيل سبع لو غائبا وقيل بإدراك الركعة الأولى وهذا أوسع وهو الصحيح  وقيل بإدراك الفاتحة وهو المختار.

فی الھندیۃ(۶۹/۱):

 أما فضیلۃ تکبیرۃ الافتتاح فتکلموا فی وقت إدراکھا والصحیح أن من ادرک الرکعۃ الأولی فقد أدرک فضیلۃ تکبیرۃ الافتتاح.

دار الإفتاء،دارالعلوم ديوبند[1]:

إذا أدرك المقتدي ركوع الركعة الأولى، فإنّه يحصل له فضل تكبيرة الإحرام (تكبيرة الأُولى) على القول الصحيح...إلا أن المرتبة العالية هي أن يكون المقتدي حاضراً عند تكبيرة الإحرام، ويُكبّر بعد تكبيرة الإمام مباشرةً، ثم يدخل في الصلاة.

 


[1] https://www.darulifta.info/d/deoband/fatwa/dSz/tkbyr-aoly-ks-kt-y

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

4/1/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب