| 87871 | طلاق کے احکام | وہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے |
سوال
شوہر کے ظلم کی وجہ سے نکاح فسخ کرانےکا حکم
ایک عورت کا شوہر بیوی کی حق تلفی کررہا ہے اور اس کا رویہ بیوی کے ساتھ ٹھیک نہیں رہتا ۔ اس کے ساتھ نہ تو محبت کا برتاؤ کرتا ہے اور نہ ہی اُس کے شرعی حقوق ادا کرتا ہے ۔ وہ مسلسل بیوی کو ذہنی اذیت دیتاہے، جس کے نتیجے میں بیوی شدید دماغی بیماری میں مبتلا ہو چکی ہے، اور اسے اندیشہ لاحق ہو چکا ہے کہ اگر وہ مزید ایسے ماحول میں رہے گی تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان حالات سے تنگ آکر بیوی اگر طلاق کا مطالبہ کرے تو وہ طلاق بھی نہیں دیتا ،بلکہ کہتا ہے: طلاق کبھی نہیں دوں گا۔ اس کے علاوہ بیوی پر زیادتی کرنے کے علاوہ ناجائز الزامات لگانے سے بھی باز نہیں آتا،لہذا بیوی کے لئے مذکورہ صورت ِحال میں نکاح باقی رکھنا ناممکن ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
کیا ایسی حالت میں عورت شرعاً خلع یا فسخِ نکاح کی حق دار ہے؟ اگر عورت عدالت یا دارالافتاء سے رجوع کرے، اور وہ نکاح ختم کرنے کا فیصلہ دے دیں، تو کیا وہ فیصلہ شرعاً معتبر ہوگا؟ جبکہ اس کے بر خلاف شوہر ایسے تمام معاملات میں معافی کا اور صلح کا کہتا ہے اور آئندہ ایسے کوئی بھی زیاتی نہیں ہوگی کا حلفاً وعدہ کرتا ہے اور عدالتی فیصلے کو یک طرفہ تصور کرکے فسخ نکاح کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کے بعد شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کے حقوق ادا کرے، اپنی استطاعت کی بقدر اس کو بہترین نان ونفقہ دے۔ بلا وجہ بیوی کو مارنا، اذیت دینا شریعت میں منع ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے،:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہترین ہے۔"
اسی طرح بیوی پر بھی لازم ہے کہ وہ شوہر کی اطاعت کرے ، اس کے مال وعزت کی حفاظت کرے اور ایسے کام کرنے سے گریز کرے ، جو شوہر کے لئے تکلیف کا سبب ہو۔
صورت مسئولہ میں اگر واقعتاََ شوہر ہر طرح کے حقوق دینے پر آمادہ ہے ،بلکہ اس کا وعدہ بھی کرتا ہے اور حلف اٹھاتا ہے کہ آئندہ وہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا تو بیوی کو چاہئے کہ شوہر کی گزشتہ خطاؤں سے درگزر کرےاور اسے معاف کردے۔ اسی طرح دونوں طرف سے بزرگ حضرات میاں ،بیوی کے درمیان صلح کروانے میں کردار ادا کریں اور میاں بیوی اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کے لئے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار زندگی گزاریں گے، ایک دوسرے کے مزاج کا خیال رکھیں گے۔خاص طورپر شوہر کے لئے يہ بہترین موقع ہے کہ وہ گزشتہ خطاؤں کی تلافی کے لئے بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
حوالہ جات
القرآن الكريم[النساء: 34-35]
ﵟٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا 34 وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا ﵞ
سنن ابن ماجه (ص399 ت هادي):
عن سليمان بن عمرو بن الأحوص، حدثني أبي، أنه شهد حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحمد الله وأثنى عليه وذكر ووعظ، ثم قال: "استوصوا بالنساء خيرا، فإنهن عندكم عوان، ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك، إلا أن يأتين بفاحشة مبينة، فإن فعلن فاهجروهن في المضاجع، واضربوهن ضربا غير مبرح، فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا، إن لكم من نسائكم حقا، ولنسائكم عليكم حقا، فأما حقكم على نسائكم: فلا يوطئن فرشكم من تكرهون، ولا يأذن في بيوتكم لمن تكرهون، ألا وحقهن عليكم: أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن".
سنن ابن ماجه (3/ 148 ت الأرنؤوط):
عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
5/محرم الحرام 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


