| 87865 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
اگر کوئی شخص پاکستان میں رہ کر آن لائن ایسی جاب کرتا ہے جس میں وہ دوسرے ممالک جیسے دبئی وغیرہ میں انشورنس پالیسی سیل کرتا ہے ، تو وہ شخص پاکستان میں رہ کے دبئی کے لوگوں کو جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں،ان کو آن لائن انشورنس پالیسی سیل کرتا ہے۔ تو کیا اس کے لیے یہ جاب کرنا جائز ہے یا نہیں ؟دبئی وغیرہ میں انشورنس کروانا لازمی ہے، اگرنہیں کروائیں گے تو ویزہ منسوخ ہو جائے گا یا ویزے کی میعادنہیں بڑھے گی ،کیونکہ یہ ان کی حکومت کا قانون ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ انشورنس سوداور جوا جیسے حرام معاملات پر مشتمل ہوتی ہے،اور حرام معاملات میں براہ راست کسی بھی طرح معاون بننا جائز نہیں ۔صورت مسئولہ میں چونکہ آن لائن انشورنس پالیسی بیچنے کی صورت میں حرام معاملہ میں تعاون ہوگا،اس لیے یہ پالیسی بیچنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال الله تعالى :وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان. (المائدة:2)
ویتلخص منہ أن الانسان اذا قصد الإعانۃ علی المعصیۃ بإحدی الوجوہ الثلاثۃ المذکورۃ(أن یقصد الإعانۃ علی المعصیہ،بتصریح المعصیۃ فی صلب العقد،بیع اشیاء لیس لھا مصرف إلا فی المعصیۃ)، فان العقد حرام لا ینعقد والبائع آثم .أما اذا لم یقصد ذٰلك، وکان البیع سببا للمعصیۃ، فلا یحرم العقد ،ولکن اذا کان سببا محرکا، فالبیع حرام ،وان لم یکن محرکا ، وکان سببا قریبا بحیث یستخدم فی المعصیۃ فی حالتھا الراھنۃ ، ولا یحتاج الی صنعۃ جدیدۃ من الفاعل کرہ تحریما والا فتنزیھا…وکذٰلك الحکم في برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنك ربوی، فان قصد بذٰلك الإعانۃ، او کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح الا فی الأعمال الربویۃ،أو الأعمال المحرمۃ الأخری،فان العقد حرام باطل.أما اذا لم یقصد الإعانۃ ،ولیس في البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمۃ ،صح العقد وکرہ تنزیھا. ( فقه البيوع:1/194)
عن عبد اللہ ،قال : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا ، ومؤکلہ ،قال : قلت: وکاتبہ وشاھدیہ؟ قال : إنما نحدث بما سمعنا .قولہ : (وکاتبہ) : لأن کتابۃ الربا إعانۃ علیہ ،ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوك الربویۃ لا یجوز ، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا ،کالکتابۃ أو الحساب ،فذلك حرام لوجھین :الأول:إعانۃ علی المعصیۃ ،والثانی : أخذ الأجرۃ من المال الحرام .ثم قال : فإذا وجد بنك معظم دخلہ حلال ،جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال ، واللہ أعلم . ( تکملۃ فتح الملھم:1/575)
فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبول هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل: التعاقد بالربا أخذاً أو عطاء، أو حسم الكمبيالات، أو كتابة هذه العقود، أو التوقيع عليها، أو تقاضي الفوائد الربوية، أو دفعها، أو قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليها، أو إدارة البنك، أو إدارة فرع من فروعه، فإنّ الإدارة مسؤولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبها حرام.و من کان مؤظفا فی البنك بھذا لشکل ، فإن راتبہ الذی یأخذہ من البنك کلہ من الأکساب المحرمۃ. .
( فقہ البیوع:2/1032)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
3/محرم الحرام،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / شہبازعلی صاحب |


