03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مستحق ہونے کے باوجود حکومتی اسکیم سے پیسے وصول کرنا
87896جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص نے غیر مستحق ہونے کے باوجود حکومتی اسکیم سے 10 ہزار روپے وصول کیے بعد میں شرمندہ ہوا تو اب پوچھتا ہے کہ یہ 10 ہزار روپے کا میں کیا کروں کیا صدقہ کر دوں یا شرعا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حکومت کی جانب سے اس قسم کی  اسکیم کا مقصد چونکہ  مستحق لوگوں کی مدد کرنا ہوتا ہے،اس لیے غیر مستحق شخص کا اس  طرح کی اسکیم سے فائدہ حاصل کرنا قانوناً جرم ہے،نیز مستحق لوگوں کی حق تلفی کی وجہ سے شرعاً بھی جائز نہیں ۔ان صاحب نے چونکہ اس اسکیم سے مستحق نہ ہونے کے باوجود  پیسے لیے ہیں ،اس لیے  اب ان پیسوں کو اسی حکومتی ادارے کو یا کسی حکومتی فنڈ  میں واپس  کرنا ضروری ہے۔لیکن اگر واپس کرنا ممکن نہ ہو تو   کسی  مستحق زکوٰ ۃ پر صدقہ کرنا چاہیے۔اس بات کا خوب اہتمام کریں کہ  آئندہ غلط بیانی کرکے کسی بھی حکومتی اسکیم سے فائدہ نہ اٹھائیں۔    

حوالہ جات

فإنما ‌حصل ‌له ‌الربح فيه بسبب خبيث شرعا والسبيل في الكسب الخبيث التصدق.

(المبسوط للسرخسي:12/ 172)

لو مات رجل وكسبه من ثمن الباذق والظلم أو أخذ الرشوة تعود الورثة ولا يأخذون منه شيئا وهو الأولى لهم ويردونه على أربابه إن عرفوهم، وإلا يتصدقوا به؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد. (البحر الرائق :8/229 )

وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (الدر المختار مع رد المحتار:6/ 385)

 لأن ‌الخائن ‌هو ‌الذي ‌يأخذ ما ليس له أخذه ظلماأو عدوانًا. (بذل المجھود:11/ 262)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

6/محرم الحرام،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب