| 87867 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
میں مسمی ٰ محسن علی ولد محمد امیر ۔میرا بھائی محمد ناصر ولد محمد امیر کا رشتہ مسمیٰ محمد نواز کی بیٹی مسماۃ حلیمہ دختر محمد نواز سے علاقائی وڈیروں کی وساطت سے ہوا۔(فریقین کی طرف سے مقرر کردہ علاقائی وڈیروں کے نام:
- احمد بخش والد حاجی خدا بخش ( محمد نواز کی طرف سے )
- غلام غازی ولد مہر محمد رستم محسن علی کی طرف سے )
جو کہ چند شرائط کیصورت میں جنہیں اسٹامپ پیپر میں محفوظ کیا گیا،نکاح بمع رخصتی طے پایا۔رشتہ طے ہونے اور تمام شرائط قلمبند ہونے کے بعد محمد نواز نے وٹے کی صورت میں رشتہ طلب کیا۔میںاس بات سے انکاری ہوگیا۔
فریقین کے وڈیروں کی باہمی مشاورت سے مہر غلام غازی نے میری برادری کی وساطت سے میری بیٹی ارم مائی دختر محسن علی کا نکاح محمد نواز کے بیٹے جمعے خان سے پڑھوادیا ،جبکہ میں پہلے دن سے آج تک انکاری رہا ۔بوقت نکاح مہر غلام غازی اور برادری کے افراد نے مجھے گالم گلوچ کی ،دباؤدیا،جس کی وجہ سے انکار کرنے کے بعد میں خاموش ہوگیا۔
نکاح خواں محمد شفیع والد مولوی غلام نبی نے جب مجھ سے پوچھا تو میں نے ان کو بھی انکار کردیا ۔مولوی صاحب نے علاقہ کے لوگوں کے دباؤ سے میرے انکار کے باوجود میری بیٹی کا نکاح محمد نواز کے بیٹے جمعے خان سے پڑھادیا ، جب کہ بچی کی عمر تین سال تھی۔ میری بیوی کو بٹھا کر نکاح پڑھوادیا ۔آیا اس صورت میں نکاح ثابت ہوگا یا نہیں ؟قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں جو تفصیل لکھی گئی ہے اگر یہ واقعۃً درست ہے اور اس میں کوئی بات خلاف واقعہ نہیں لکھی گئی تو صورت مسئولہ میں محمد نواز کے بیٹے مسمیٰ جمعہ خان کا نکاح محسن علی کی بیٹی مسماۃ ارم مائی سے نافذ نہیں ہوا،کیونکہ بچی کی عمر بوقت نکاح تین سال تھی،اور نابالغ بچی کا نکاح اس کے ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیرکرنا شرعاً درست نہیں۔لہذا اگرچہ یہ نکاح پڑھوادیا گیا ہے،لیکن چونکہ بچی کے والد کی اجازت اور رضامندی کے بغیر پڑھوایا گیا ہے، بلکہ والد اس نکاح کا انکار بھی کرتا رہا ہے،اس لیے یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔
حوالہ جات
وكل هؤلاء لهم ولاية الإجبار على البنت والذكر في حال صغرهما وحال كبرهما إذا جنا، كذا في البحر الرائق. ( الفتاوی الهندية:1/283)
فإن نكاح الصبي العاقل وإن كان منعقدا على أصل أصحابنا فهو غير نافذ، بل نفاذه يتوقف على إجازة وليه؛ لأن نفاذ التصرف لاشتماله على وجه المصلحة والصبي لقلة تأمله لاشتغاله باللهو واللعب لا يقف على ذلك فلا ينفذ تصرفه، بل يتوقف على إجازة وليه، فلا يتوقف على بلوغه حتى لو بلغ قبل أن يجيزه الولي لا ينفذ بالبلوغ؛ لأن العقد انعقد موقوفا على إجازة الولي ورضاه، لسقوط اعتبار رضا الصبي شرعا.
(بدائع الصنائع:2/233)
(وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة.
( الدر المختار مع رد المحتار:3/55)
وإن زوج الصغير أو الصغيرة أبعد الأولياء؛ فإن كان الأقرب حاضراً أو هو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته، وإن لم يكن من أهل الولاية بأن كان صغيراً أو كان كبيراً مجنوناً جاز.
( المحيط البرهاني:3/42)
وإن زوج الصغير أو الصغيرة أبعد الأولياء فإن كان الأقرب حاضرا وهو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته، وإن لم يكن من أهل الولاية بأن كان صغيرا أو كان كبيرا مجنونا جاز، وإن كان الأقرب غائبا غيبة منقطعة؛ جاز نكاح الأبعد، كذا في المحيط. (الفتاوی الهندية:1/285)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
5/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


