03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت کے دوران بیوہ کے لیے گھر سے نکلنے کا حکم
87901طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

متوفیٰ عنہا زوجہا عدت  میں شدید مجبوری  کی حالت میں  گھر سے نکل کر کھیتی کا کام کر سکتی ہے ،جبکہ کماکر دینے والا کوئی نہیں  ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر واقعی ایسی صور حال ہے کہ اس کے  پاس بقدر ضرورت اخراجات کے لیے بندوبست نہیں اور نہ ہی کوئی اور کماکر دینے والا ہے ، تو اس صورت میں یہ دن میں صرف بقدر ضرورت کام کرنے  کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے ۔کام مکمل ہونے پر  فوراً گھر واپس آنا ضروری ہے ۔ یہی گنجائش اس صورت میں بھی ہوگی جب کمانے کی حاجت نہ ہو،لیکن کھیت کی دیکھ بال کا کوئی اور ذریعہ نہ ہو؛کیونکہ ایسی صورت میں ایک بڑے مالی نقصان کا خطرہ ہے۔تاہم یہ سب اجازتیں ضرورت سے ہیں،ضرورت پوری ہونے پر مزید باہر ٹھہرنا درست نہ ہوگا۔

حوالہ جات

وأما المتوفى عنها زوجها فلا تخرج ليلا ولا بأس بأن تخرج نهارا في حوائجها؛ لأنها تحتاج إلى الخروج بالنهار لاكتساب ما تنفقه؛ لأنه لا نفقة لها من الزوج المتوفى بل نفقتها عليها فتحتاج إلى الخروج لتحصيل النفقة، ولا تخرج بالليل لعدم الحاجة إلى الخروج بالليل. ) بدائع الصنائع:3/205)

قال في الهداية: وأما المتوفى عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش ...قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها. ( الدر المختار مع رد المحتار:3/536)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

5/محرم الحرام،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب