| 87857 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب کادوران سروس انتقال ہوا ہے، اب پنشن ، جی پی فنڈ، بینوولنٹ فنڈ ،فائنانس اسسٹنٹ فنڈ میں وراثت کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ پنشن میں سب فیملی لسٹ جمع کروادی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ جو رقم(خواہ کسی بھی فنڈ سے متعلق ہو)ملازم(مرحوم)کی ملکیت میں اس کی زندگی میں تھی یا کم ازکم اس رقم پر ملازم کا زندگی میں استحقاق ثابت ہوچکا تھا وہ رقم ترکہ میں شامل ہوگی اور جو رقم ملازم کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اس پر زندگی میں استحقاق ثابت ہوا ہو،ایسی رقم ادارے کی طرف سے عطیہ شمار ہوگی اور ترکہ میں شامل نہیں ہوگی،عطیہ ہونے کی صورت میں ادارہ اپنی پالیسی کے مطابق ملازم (مرحوم) کے جن رشتہ داروں کو یہ رقم دے گا وہی اس کے مالک ہوں گے،کسی اور کو ان سےمطالبے کا حق نہیں ہوگا۔(ماخوذ از تبویب: 85582)
مرحوم کی وفات کے وقت جو بھی منقولہ و غیر منقولہ چیز مرحوم کی ملک میں تھی وراثت اس میں جاری ہوتی ہے۔مرحوم کو ملنے والی پنشن میں مرحوم کی ملک نہیں بلکہ وہ حکومت کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہے،لہذا حکومت جس کے نام پر جاری کرے وہ پنشن اسے ملے گی۔ (ماخوذ از تبویب: 73229)
اسی طرح بینوولنٹ فنڈ اور فائنانس اسسٹنٹ فنڈ بھی متعلقہ ادارے کی طرف سے جس کو ملےاس کی ملکیت شمار ہوتا ہے،مرحوم کے ترکہ میں شمار ہوکر تمام ورثاء میں تقسیم نہیں ہوتا۔
مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت مسئولہ میں جی پی فنڈ والد مرحوم کے تمام ورثاء میں مذکورہ بالا شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا اور جو پینشن ،بینوولنٹ فنڈ اور فائنانس اسسٹنٹ فنڈ مرحوم کے انتقال کے بعد ورثاء میں سے نامزد شدہ اشخاص کو ملیں گے، وہ انہی کی ملکیت شمار ہوگی،تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم نہیں ہوں گے۔
حوالہ جات
الفقه الإسلامي وأدلته :(10/ 372)
الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي.
الأشباه والنظائر - حنفي (ص 331):
العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
05 /محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


