| 87856 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم دو بھائی ،میری ایک ماں اور آٹھ بہنیں ہیں ۔والد صاحب کی میراث کی تقسیم کیسے ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی ،اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل میراث کے 96 حصے بنائے جائیں گے، مرحوم کی بیوہ کو ثمن (آٹھواں حصہ) یعنی 12حصے ملیں گے اور بقیہ میراث بیٹوں اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہو گی کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دو گنا ملے ،یعنی ہر بیٹے کو 14، اور ہر بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔
فیصدی اعتبار سے کل میراث کا 12.5% مرحوم کی بیوہ کو اور ہر بیٹے کو 14.5833% اور ہر بیٹی کو 7.2916%ملے گا۔
میراث کی تقسیم درج ذیل طریقے سے ہو گی:
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
بیوہ |
12 |
12.5% |
|
بیٹا 1 |
14 |
14.5833% |
|
بیٹا 2 |
14 |
14.5833% |
|
بیٹی 1 |
7 |
7.2916% |
|
بیٹی 2 |
7 |
7.2916% |
|
بیٹی 3 |
7 |
7.2916% |
|
بیٹی 4 |
7 |
7.2916% |
|
بیٹی 5 |
7 |
7.2916% |
|
بیٹی 6 |
7 |
7.2916% |
|
بیٹی7 |
7 |
7.2916% |
|
بیٹی8 |
7 |
7.2916% |
|
مجموعہ |
96 |
100% |
حوالہ جات
[النساء: 11]
﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾
[النساء: 12]
﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ ﴾
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
05 /محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


