03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ودیعت کی چیز بطورِ قرض   لے کر فروخت کرنا
87908خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

بینک نے چینی خریدی اور کسٹمر کے پاس پلیج میں رکھ دی۔کسٹمر کسی سبب کے باعث کہتا ہے کہ یہ چینی مجھے دے دیں ،میں اس کی جگہ  بینک کو دوسرا اسٹاک دیتا ہوں  جبکہ   چینی میں کوئی فرق  بھی نہیں ہوگا۔ اس تبادلہ کی شرعی حیثیت اور تکییف کیا ہے؟  

تنقیح:موبائل فون کے ذریعے استفسار پر سائل نے یہ وضاحت کی کہ بینک نے نقد رقم کے بدلےمیں چینی خریدی،پھر قبضہ کرنے کے بعدچینی اسی فروخت کنندہ ہی کے گودام میں بطورِ حفاظت رکھوادی ،جسےسائل کے بقول بینک کی اصطلاح میں پلیج رکھوا نا کہتے ہیں اور  اس  پلیج کے بعد  فروخت کنندہ اس میں کوئی تبدیلی یا ذاتی تصرف نہیں کر سکتا۔  بینک کی خریدی ہوئی چینی  چونکہ گودام میں سامنے رکھی ہے،اس لیے  فروخت کنندہ کو یہ ضرورت پیش آئی کہ وہ  یہ چینی بینک سے لے کر  کسی اور کو بیچ دےاور اس کی جگہ بینک کو اپنی چینی دے دے جوکہ گودام میں پیچھے رکھی ہے  ۔                                                                                                     

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں بینک کی خریدی ہوئی چینی فروخت کنندہ کے پاس فقہی لحاظ سےودیعت ہےاور فروخت کنندہ کا بینک کی اجازت سے اس چینی کو کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کرکے اس کی جگہ اور چینی بینک کو دینا قرض کا معاملہ ہے،لہذا یہ چینی  بینک سے بطورِ قرض لے کر  کسی اور کو فروخت کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:5/ 664،662):

الایداع (هو) لغة: من الودع أي الترك وشرعا (تسليط الغير على حفظ ماله صريحا أو دلالة) كأن انفتق زق رجل فأخذه رجل بغيبة مالكه ثم تركه، ضمن لأنه بهذا الأخذ التزم حفظه دلالة .بحر (الوديعة ما تترك عند الأمين) وهي أخص من الأمانة كما حققه المصنف وغيره...(وهي أمانة) هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولها ،(فلا تضمن بالهلاك) إلا إذا كانت الوديعة بأجر .أشباه معزيا للزيلعي (مطلقا) سواء أمكن التحرز أم لا، هلك معها شيء أم لا ؛ لحديث الدارقطني: ليس على المستودع غير المغل ضمان .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:5/ 161):

القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه، وهو أخصر من قوله : (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة.(وصح) القرض (في مثلي)، هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات، كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت لتعذر رد المثل.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

   5/محرم/1447ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب