| 87735 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہمارے اور پارٹنر کے درمیان تحریری طور پر یہ طے پایا تھا کہ ہم جو بھی کاروبار کریں گے، اُس میں ایک تہائی حصہ ہمارا اور دو تہائی حصہ اُن کا ہوگا۔ بعد ازاں جب فیکٹری کے قیام کا مرحلہ آیا، تو پارٹنر نے اطلاع دی کہ ایک تیسرا شخص بھی فیکٹری میں بطور شریک شامل کیا گیا ہے، کیونکہ اُسے فیکٹری قائم کرنے کا عملی تجربہ حاصل ہے۔ چونکہ ہمارا معاہدہ واضح تھا، اس لیے ہم نے کوئی اعتراض نہ کیا اور تینوں پارٹنر ایک ایک حصے کے بقدر شریک ہوگئے۔چند سال بعد تیسرے پارٹنر نے باہمی اختلافات کی بنا پر شرکت ختم کر دی۔ درحقیقت، اس تیسرے پارٹنر کے ساتھ ہمارے پارٹنر کے الگ کاروباری معاملات بھی چل رہے تھے، جن کے تحت بطور ایڈوانس ان کی کچھ رقم تیسرے پارٹنر کے پاس رکھی ہوئی تھی ۔ تیسرے پارٹنر نے وہی رقم اپنے حصے کےطورپر روک لی اور کہا کہ فیکٹری میں جو میرا حصہ تھا وہ میں نے پیسوں کے بدلے چھوڑ دیا۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ خالصتاً ان دونوں کےدرمیان طے پایا۔ہم اپنے ابتدائی معاہدے کی بنیاد پر اس مؤقف پر قائم ہیں کہ فیکٹری میں ہمارا حصہ بدستور ایک تہائی اور پارٹنر کا دو تہائی تھا۔ تیسرے شریک کو پارٹنر نے اپنے حصے سے شریک کیا اور بعد میں اُس کو ادائیگی کر کے اُس کا حصہ دوبارہ خود لے لیا، لہٰذا اب وہ دوبارہ اپنے دو حصوں کے مالک ہیں۔اب پارٹنر یہ چاہتے ہیں کہ تیسرے شریک کو دی گئی رقم، جو درحقیقت اُن کے ذاتی معاملات سے متعلق تھی، اُسے فیکٹری کے اخراجات میں شامل کر کے وصول کی جائے۔ جبکہ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ چونکہ یہ رقم پارٹنر نے اپنے حصے سے تیسرے شریک کو دی تھی اور واپس بھی خود ہی لی، اس لیے اس کی حیثیت ذاتی ایڈجسٹمنٹ کی ہے، فیکٹری کے مشترکہ اخراجات کی نہیں۔لہٰذا وہ اس رقم کو فیکٹری کے اخراجات میں شامل کرکے وصول نہیں کرسکتے۔اگر وہ اس رقم کو فیکٹری پر ڈال کر مشترکہ خرچ قرار دیں گے، تو پھر تیسرے شریک کا دیا گیا حصہ بھی مشترکہ شمار ہوگا اور فیکٹری میں ہمارے اور پارٹنر کے درمیان حصے برابر (نصف، نصف) ہو جائیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کاروباری شراکت میں اگر کوئی شریک نکلنا چاہتا ہے تو نکلنے والے شریک کواس کے کاروباری سرمایہ اور نفع کے مد میں رقم دے کر باقی شرکاء میں سے کوئی بھی خرید سکتا ہے ،جس سے خریدنے والےکا حصہ کاروبار میں بڑھ جائے گا اور اس خریدے گئے حصے کا نفع و نقصان بھی خریدنے والے کے حصہ میں آجائےگا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر بات یہی ہےکہ تیسرا پارٹنر دوسرے پارٹنر کے دو حصوں میں سے ایک حصے کے ساتھ شریک کیا گیا تھا تو اب جبکہ دوسرے شریک نے تیسرے شریک کا حصہ اپنے اُس ایڈوانس رقم کے بدلے میں خرید لیا ہے، جو پہلے سے تیسرے شریک کے پاس کاروباری لین دین کے طور پر موجود تھی ۔تو اب دوبارہ دوسرا شریک فیکٹری میں دوتہائی حصے کا مالک بن چکا ہے۔چونکہ یہ رقم تیسرے شریک کے حصے کی خریداری کے بدلے میں دی گئی ہے، اس لیے اسے فیکٹری کے کاروباری اخراجات میں شامل کر کےوصول کرنا شرعاً جائز نہیں۔
حوالہ جات
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (3/ 48):
«[المادة (88 0 1) لأحد الشريكين إن شاء باع حصته إلى شريكه وإن شاء باعها لآخر بدون إذن شريكه]المادة (88 0 1) - (لأحد الشريكين إن شاء بيع حصته إلى شريكه إن شاء باعها لآخر بدون إذن شريكه. انظر المادة (5 1 2) أما في صورة خلط الأموال واختلاطها التي بينت في الفصل الأول فلا يسوغ لأحد الشريكين أن يبيع حصته في الأموال المشتركة المخلوطة أو المختلطة بدون إذن شريكه) لأحد الشريكين إن شاء بيع حصته إلى شريكه في جميع صور الاشتراك إذا لم يكن ذلك مضرا بأي شخص كان وإن شاء باعها لآخر بدون إذن شريكه فيما عدا خلط واختلاط الأموال. كذلك لو كان اثنان متصرفين بعقار وقف بطريق الإجارتين فلأحدهما إن شاء إفراغ حصته لشريكه وإن شاء أفرغها لآخر بدون إذن شريكه لأن لكل إنسان ولاية على مال ولكل أن يتصرف في ماله كيفما شاء. انظر المادة (2 19 1) . »
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
4/ ذو الحجہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


