| 87935 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
سوال یہ ہے کہ شرعی حوالے سے وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر بیوی کو شوہر سےخلع کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع کے لئے تو کوئی خاص متعین وجوہ نہیں ہیں،بلکہ جب میاں بیوی کے درمیان نباہ نہ ہورہا ہو اور انہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو باہمی رضامندی سے خلع کے ذریعے نکاح کے رشتے کو ختم کیا جاسکتا ہے،البتہ اس کے لئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی شرط ہے،اس کے بغیر خلع صحیح نہیں ہوتا۔
تاہم فسخ نکاح کے لئے کسی معقول وجہ کا پایا جانا ضروری ہے،جس کی موجودگی میں قاضی کو شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے،فسخ نکاح کی وجوہ درج ذیل ہیں:
ا۔شوہر نامرد ہو۔
۲۔ متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہواور نہ طلاق دیتا ہو۔
۳۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔
۴۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو،لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہواور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہو۔
۵۔ایسا پاگل ہویا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں ناقابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،نیزفسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے،اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا۔(فقہی مقالات:2/ 192)
حوالہ جات
......
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
05/محرم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


