03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فسخ نکاح کی معقول وجوہ
87935طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

 سوال یہ ہے کہ شرعی حوالے سے  وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر  بیوی کو شوہر سےخلع کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلع کے لئے تو کوئی خاص متعین وجوہ نہیں ہیں،بلکہ جب میاں بیوی کے درمیان نباہ نہ ہورہا ہو اور انہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے  تو باہمی رضامندی سے خلع کے ذریعے نکاح کے رشتے کو ختم کیا جاسکتا ہے،البتہ اس کے لئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی شرط ہے،اس کے بغیر خلع صحیح نہیں ہوتا۔

تاہم فسخ نکاح کے لئے کسی معقول وجہ کا پایا جانا ضروری ہے،جس کی موجودگی میں قاضی کو شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے،فسخ نکاح کی وجوہ درج ذیل ہیں:

ا۔شوہر نامرد ہو۔

۲۔ متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہواور نہ طلاق دیتا ہو۔

۳۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔

۴۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو،لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہواور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہو۔

۵۔ایسا پاگل ہویا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں ناقابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،نیزفسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے،اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا۔(فقہی مقالات:2/ 192)

حوالہ جات

......

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

05/محرم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب