| 87934 | دعوی گواہی کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ کیا گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟اگر ضروری ہےتو گواہ کون لوگ بن سکتے ہیں ؟ ان کی تعداد کتنی ہو؟مرد ہونے چاہئے یا عورتوں کی گواہی بھی معتبر ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی معقول وجہ کی بناء پر عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کرنے کے بعد اسے شرعی شہادت(یعنی کم از کم دو نیک و صالح مردوں یا انہیں صفات کی حامل دوعورتوں اور ایک مرد کی گواہی)سے ثابت کرنا ضروری ہے،شرعی شہادت کے بغیر محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر عدالت کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں ،گواہوں کے ذریعے دعوی کے ثبوت کے بغیر جج کا کیا گیا فیصلہ شرعا معتبر نہیں ہوتا۔
نیز لڑکی کے والدین کے علاوہ کوئی بھی نیک وصالح مرد یا عورت کو گواہ بنایا جاسکتا ہے،چاہے وہ اس کے رشتہ دار،مثلا بہن، بھائی،چچا،ماموں وغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (4/ 3):
"(وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا، يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع ،كذا في محيط السرخسي".
"الفتاوى الهندية" (3/ 469):
"لا تجوز شهادة الوالدين لولدهما وولد ولدهما، وإن سفلوا، ولا شهادة الولد لوالديه وأجداده وجداته من قبلهما، وإن علوا، ولا شهادة الزوج لامرأته، وإن كانت مملوكة أيضا ولا شهادة المرأة لزوجها، وإن كان مملوكا أيضا، كذا في الحاوي.....
وتجوز شهادة الأخ لأخته، كذا في محيط السرخسي.
شهادة الأخ لأخيه وأولاده جائزة، وكذا الأعمام وأولادهم والأخوال والخالات والعمات، كذا في فتاوى قاضي خان".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
05/محرم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


