| 87915 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میں اپنے دوست کے ساتھ کاروبار کر رہا ہوں۔ میرے دوست کی ذمہ داری سرمایہ فراہم کرنا ہے، جبکہ میری ذمہ داری افراد کی بھرتی اور ان سے کام لینا ہے۔ ہم دونوں کا منافع میں 50، 50 فیصد حصہ ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی ملازم، جو ماہانہ 50,000 روپے تنخواہ لیتا تھا، کام چھوڑ دے اور میں اس کی جگہ خود کام کروں، تو کیا میں وہ 50,000 روپے بطور اجرت رکھ سکتا ہوں ؟
تنقیح : سائل سے فون پر بات کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ اور ان کا دوست موبائل ا پیپلیکیشنز وغیرہ تیار کرتے ہیں اور انہیں مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ حاصل شدہ منافع دونوں کے درمیان برابر برابر (آدھا آدھا) تقسیم ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری سے مراد یہ ہے کہ جن افراد کو سائل ایپلیکیشنز بنانے کے لئے کام پر رکھتا ہے، ان کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات مثلاً ایڈور ٹائزمنٹ (اشتہار ) کا خرچ وغیرہ اس کا دوست برداشت کرتا ہے۔ یعنی ابتداء سے لے کر انتہا تک تمام مالی اخراجات وہی ادا کرتا ہے۔ سائل کی ذمہ داری ماہر افراد کو ہائر کرنا اور ان سے کام لینا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کاریگر مہینے کے درمیان کام چھوڑ دیتا ہے تو جب تک نیا کاریگر نہ ملے ، سائل خود اس کا کام انجام دیتا ہے۔
تنقیح : سائل سے فون پر بات کرنے سے معلوم ہوا کہ میں ا پلیکیشنز تیار کرنے سے لے کر انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنے تک کی تمام ذمہ داری سائل کی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں آپ اور آپ کے دوست کے درمیان جو معاملہ ہے ، وہ دراصل مضاربت کا ہے۔ مضاربت میں نفع اور اجرت دونوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا، یعنی مضارب ( کام کرنے والا شریک) کسی کام کے بدلے اپنے لیے الگ سے اجرت مقرر نہیں کر سکتا، بلکہ وہ صرف نفع میں شریک ہوتا ہے۔ لیکن اگر رب المال (سرمایہ فراہم کرنے والا ) اور مضارب ( کام کرنے والا) باہمی رضامندی سے کسی مضارب کو متعین اجرت کے بدلے ایسا کام سونپ دیں جو بر اور است مضاربہ کے کاموں میں شامل نہ ہو، تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں۔ بشر طیکہ یہ معاہدہ عقد مضاربہ سے علیحدہ طور پر ہو ، اور اگر اسے دی گئی ذمہ داری سے سبکدوش کیا جاتا ہے تو مضاربہ کا عمل اس سے متاثر نہ ہو۔ صورت مسئولہ میں، اپلیکیشنز تیار کرنے سے لے کر انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنے تک کی تمام ذمہ داری آپ کی ہے، اور اس کے بدلے آپ نفع میں حصہ لے رہے ہیں۔ لہذا اپبلیکیشنز بنانے سے متعلق جو بھی کام ہے ، وہ آپ کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے، اس کے بدلے الگ سے اجرت لینا آپ کے لیے جائز نہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (287/4):
(وأما الشروط) الفاسدة فمنها ما تبطل المضاربة ومنها ما لا تبطلها بنفسها إذا قال رب المال للمضارب لك ثلث الربح وعشرة دراهم في كل شهر عملت فيه للمضاربة فالمضاربة جائزة والشرط باطل كذا في النهاية. فإن عمل على هذا الشرط فربح فالربح على ما اشترطا ولا أجر للمضارب في ذلك.
المعايير الشرعية (المضاربة) ٨/٢ :
الأصل عدم جواز الجمع بين الربح في المضاربة والأجرة، على أنه إذا اتفق الطرفان على قيام أحدهما بعمل ليس من أعمال المضاربة بأجر محدد و كان الاتفاق بعقد منفصل عن عقد المضاربة بحيث تبقى إذا تم عزله عن ذلك العمل فلا مانع من ذلك شرعا.
جمیل الرحمن
دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
/5 محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


