03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عید گاہ کو مسجد بنانا
87841نماز کا بیانمسجدکے احکام و آداب

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ:ایک خاتون نے آٹھ کنال زمین وقف کی، جس میں سے چار کنال گاؤں کی مرکزی جامع مسجد (جو اس وقت "مسجد بلال" کے نام سے معروف ہے) کے لیے، اور چار کنال عیدگاہ کے لیے وقف کی گئی۔بعد ازاں ایک صاحب نے کہا کہ وہ عیدگاہ کے لیے مخصوص زمین پر اللہ کے لیے فی سبیل اللہ عیدگاہ تعمیر کر دیں گے۔ چنانچہ مسجد کی کمیٹی نے گاؤں والوں سے مشورہ کر کے وہ چار کنال زمین اُن صاحب کے سپرد کر دی تاکہ وہ اس پر عیدگاہ تعمیر کریں۔لیکن اُن صاحب نے اس زمین پر عیدگاہ کے بجائے مکمل مسجد تعمیر کر دی۔ اس مسجد میں دو کنال پر چھت والا حصہ ہے جبکہ باقی دو کنال پر صحن، وضوخانہ اور دیگر سہولیات ہیں۔ انہوں نے اس مسجد پر باقاعدہ "مسجد" کا بورڈ آویزاں کر دیا، امام مقرر کیا، اور تولیت کی ذمہ داری بھی خود سنبھال لی۔اب وہ صاحب باقی چار کنال زمین — جو کہ مرکزی جامع مسجد کے لیے وقف ہے— اس پر جنازہ گاہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن مسجد کی کمیٹی نے اس پر جنازہ گاہ بنانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر وہ صاحب کہتے ہیں کہ وہ اس وقف شدہ زمین کے بدلے میں مسجد کو متبادل زمین دے دیتے ہیں اور اس زمین پر جنازہ گاہ بنا لیتے ہیں۔تاہم اصل وقف شدہ زمین کی قیمت زیادہ ہے، جبکہ جو متبادل زمین وہ صاحب دینا چاہتے ہیں، اس کی قیمت کم ہے۔اس تفصیل کی روشنی میں  اس حوالے سےپہلا سوال یہ ہےکہ وہ مسجد جو ان صاحب نے بنائی ہے، کیا وہ شرعی مسجد کے حکم میں ہے یا نہیں؟ اور کیا وہاں باجماعت نماز کا ثواب حاصل ہوگا یا نہیں، جبکہ زمین عیدگاہ کے لیے دی گئی تھی نہ کہ مسجد کے لیے، اور مسجد کمیٹی نے بھی مسجد بنانے پر رضا مندی ظاہر نہیں کی؟

وضاحت : یہ چار کنال زمین صرف زبانی نہیں ، بلکہ باقاعدہ کاغذات میں عید گاہ کے لیے وقف کی گئی ، اس پر باقاعدہ حد بندی ہوئی،مختصر چار دیواری بنی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ایک زمین  جب عید گاہ کے لیے وقف ہو تو واقف کی اجازت کے بغیر اسے مسجد نہیں بنایا جاسکتا،  صورتِ  مسئولہ میں  مذکورہ مسجد شرعی مسجد نہیں ہے، لہذا اس جگہ کو  دوبارہ عید گاہ  ہی کی شکل دے دی جائے اور مسجد اور اس کے لوازمات میں سے جو عیدگاہ کے مناسب ہو، اسے باقی رکھ لیا جائے، مثلاً وضو خانہ۔ تاہم عیدگاہ میں  باجماعت اب تک جو نمازیں پڑھی گئی ہیں وہ ادا ہوگئی ہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 366)

"قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم و الدلالة، و وجوب العمل به".

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

5 ٖ محرم الحرام1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب