03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس (House Requisition Allowance) کا حکم
87907اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

واہ کینٹ کی ایک کالونی میں، میں نے اور میرے بھائی نے ایک پلاٹ مشترکہ کھاتے میں قسطوں پر اپنے والد صاحب کے نام پر خریدا ۔ ہم دونوں بھائیوں نے پلاٹ کی رقم آدھی آدھی ادا کی۔ مکان کی تعمیر پر میرے والدین کا ذاتی پیسہ خرچ ہوا۔ اب اس گھر میں میرا بھائی ،اس کی فیملی اور میرے والدین رہتے ہیں، میں ملازمت کے سلسلے میں ملتان میں رہتا ہوں۔ میرا بڑا بھائی جس ادارے میں کام کرتا ہے اس میں ملازمین کو ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس (House Requisition Allowance) ملتا ہے۔میرے والد صاحب نے کم سرمایا ہونے کے باوجود یہ مکان اس نیت سے تعمیر کروایا تھا کہ یہ الاؤنس دوسروں کو دینے کی بجائے خود کو ملے۔ کیونکہ ملکیت مکان ان کی تھی تو یہ الاؤنس ان کو ملنا تھا۔ میری تجویز پر میرے بھائی اور والدین کے اتفاقِ رائے سے یہ طے پایا کہ سارا ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس (House Requisition Allowance) والد صاحب اپنے پاس رکھیں گے۔ مگر میرے بھائی نے کچھ عرصہ بعد یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس کے ادارے سے ملنے والی رقم پر میرا کوئی حق یا حصہ نہیں بنتا۔ اب وہ خود ساری رقم اپنے پاس رکھے یا والد صاحب کو دے یہ اس کا اور والد صاحب کا معاملہ ہے ۔

 میرا بھائی اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ رقم اس کی ملازمت کی وجہ سے ملتی ہے ،لہذا اس پر اسی کا حق ہے۔ جبکہ میں اور میرے والدین یہ کہتے ہیں کہ یہ رقم اس گھر کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے جس کے مشترکہ اور برابر کے حصہ دار میں اور میرا بھائی دونوں ہیں۔ تو گھر کی مشترکہ ملکیت یا حصہ دار ہونے کی وجہ سے دونوں اس الاؤنس کے حقدار ہیں۔ میرے والد صاحب نے اس مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ اس الاؤنس کے تین حصے کیے جائیں، میرے والد صاحب ایک حصہ رکھیں گے جو کہ اس ملنے والے الاؤنس کے 40 یا 50 فیصد کے برابر ہے جبکہ باقی 50 یا 60 فیصد رقم ہم دونوں بھائیوں کو آدھی آدھی ملے گی۔شروع شروع میں میرے بھائی نے اس پر عمل کیا مگر پچھلے کافی عرصہ سے حالات خراب ہونے کا بہانہ بنا کر وہ یہ حصہ مجھے ادا نہیں کر رہا۔ اب اس نے اس سارے معاملے پر ایک فتویٰ بھی حاصل کیا ہے کہ یہ الاؤنس ہے ہی اس کا اور میرا اس میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔ مگر اس نے فتویٰ لینے کے لیے غلط طریقے سے حقائق چھپا کر سوال پوچھا تھا۔ فتویٰ میں اسکے ادارے سے ملنے والی رقم پر صرف اسی کا پورا پورا استحقاق بتایا گیا ہے اور یہ کہ اس کے چھوٹے بھائی کا (یعنی میرا) اس الاؤنس پر کوئی حق نہیں ہے۔ صورت مسئولہ میں پوچھنا یہ تھا کہ کیا ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس (House Requisition Allowance)  یا سیلف ہائیرنگ  (self-hiring)  الاؤنس میں میراحصہ بنتا ہےیا  نہیں؟ اور اس الاؤنس میں سے میرا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟

 مذکورہ بالا معاملے کے بارے میں میرے بھائی نے آپ سے جو فتویٰ لیا تھا وہ بھی میں نے اپنی ای میل  کے ساتھ شامل  کر دیا ہے۔  (سابقہ فتوی لف کر دیا گیا ہے)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پاکستان میں ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس اُس رقم کو کہتے ہیں جو حکومت اُن سرکاری ملازمین کو دیتی ہے جنہیں سرکاری رہائش دستیاب نہیں ہوتی، اور انہیں اپنا گھر کرائے پر لینا پڑتا ہے۔ یہ الاؤنس اس کرائے کے خرچ کو پورا کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔پاکستان کے  قانون(Accommodation  Allocation  Rules,  2OO2) کے مطابق  حکومت کی طرف سے دیا جانے والاسیلف ہاؤس ہائرنگ الاؤنس یا  ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس (House Requisition Allowance)     اس ملازم کی ملکیت ہوتا ہے جو حاضر سروس ہواوریہ اس کی تنخواہ کا حصہ ہوتا ہے جو اس کو  ہر ماہ حکومت کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے۔ اصولی طور پر اس رقم پر صرف ملازم کا حق ہوتا ہے، لہذا اس الاؤنس پر آپ کا کوئی حق نہیں، بلکہ اس کا مالک آپ کا بھائی ہے ، گھر کی ملکیت چونکہ آپ کے والد کی ہے تو آپ کے والد آپ کے بھائی سے گھر میں رہائش کا کرایہ وصول کر سکتے ہیں، آپ نہیں ،لہذاآپ کا اپنے بھائی سے  سیلف ہاؤس ہائرنگ الاؤنس یا  ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس (House Requisition Allowance) کا  مطالبہ کرنا درست نہیں۔

حوالہ جات

السنن الكبير للبيهقي (12/ 62 ت التركي):

أخبرنا أبو بكر ابن الحارث الفقيه، أخبرنا أبو محمد ابن حبان، حدثنا حسن بن هارون بن سليمان، حدثنا عبد الأعلى بن حماد، حدثنا حماد بن سلمة، عن على بن زيد، عن أبى حرة الرقاشى، عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه"

مصابيح السنة (2/ 352):

وقال: "‌ألا ‌لا ‌تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه"

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري : (5/ 44)

‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين ‌أخذ ‌مال ‌أحد ‌بغير ‌سبب ‌شرعي

Accommodation Allocation Rules, 2OO2:

(5) An FGS who owns a house in his own name or in the name of his spouse or dependent children, at the station of his posting shall not be allowed Government accommodation and shall be allowed self-hiring of the house. Such FGS shall be entitled to six months grace period from the date of completion of his house. All the FGSs who are already in possession of government accommodation shall also be allowed period of six months to shift to their own houses. However, this rule will not apply to FGSs whose houses stand hired by the Estate Office at their place of posting.

         ارسلان نصیر

  دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

   06  /محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب