| 87898 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
میرے والدین نے 2000 کی دہائی کے وسط میں 200 گز کا ایک پلاٹ خریدا تھا، اس نیت سے کہ کبھی اس پر ہمارا ذاتی گھر بنایا جائے، تاکہ ہم اپنی زمین پر رہ سکیں۔ لیکن یہ پلاٹ ہماری موجودہ رہائش گاہ سے کافی دور واقع ہے، ایک ایسی جگہ پرہے جہاں آبادی بہت کم ہے اور اردگرد کئی خالی پلاٹ موجود ہیں۔بدقسمتی سےہمارا پلاٹ اور اسی سوسائٹی کے بہت سے دوسرے پلاٹ غیرقانونی طور پر قبضے میں چلے گئے۔ یہ قبضہ تقریباً 2015 تا 2017 تک برقرار رہا، جب آخرکار یہ معاملہ عدالت کے احکامات اور پولیس کی کارروائی سے حل ہوا۔ اس کے بعد پلاٹ کی قیمت دوبارہ بڑھنا شروع ہوئی۔ قبضے کے دوران اس پلاٹ کی قیمت کافی کم ہو کر تقریباً دو سے چار لاکھ روپے تک رہ گئی تھی، لیکن جب قبضہ ختم ہواتو قیمت تین ملین (تیس لاکھ) روپے تک پہنچ گئی اور پھر رفتہ رفتہ بڑھتی رہی۔اس وقت میرے والدین نے یہ سوچا کہ وہ پلاٹ بیچ کر کسی بہتر جگہ پر گھر یا نیا پلاٹ خرید لیں جہاں سہولیات دستیاب ہوں۔ 2019 یا 2020 میں انہوں نے پلاٹ بیچنے کا ارادہ کیا، لیکن مارکیٹ کی کم قیمت کی وجہ سے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ دوبارہ 2022 یا 2023 میں انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ پلاٹ بیچ کر اپنی دونوں بیٹیوں کے لیے وراثت کے طور پر دو علیحدہ پلاٹ خریدے جائیں، لیکن خریداروں کی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے آخرکار یہی فیصلہ کیا کہ یہی پلاٹ دو برابر حصوں میں تقسیم کر کے دونوں بیٹیوں کو بطور تحفہ دے دیا جائے گا۔2023 کی آخری سہ ماہی میں ہم نے دوبارہ کوشش کی کہ پلاٹ بیچ کر اسکیم 33 کراچی میں 120 گز کا سنگل اسٹوری گھر خرید سکیں، لیکن اللہ کے حکم سے ہم دھوکے سے بچ گئے، کیونکہ ممکنہ خریدار مشکوک نکلا، تو ہم نے یہ سودا منسوخ کر دیا۔پھر 2024 میں پہلی بار ہم نے باضابطہ طور پر ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کی خدمات حاصل کیں تاکہ پلاٹ کو بیچا جا سکے، اس سے پہلے ہم صرف لوگوں یا آن لائن پلیٹ فارمز جیسے زمین ڈاٹ کام یا او ایل ایکس (OLX)کے ذریعے مارکیٹ ویلیو چیک کرتے تھے،لیکن اس ایجنٹ نے صرف دو سے چھ ماہ میں پلاٹ کی بتائی گئی قیمت میں ڈیڑھ ملین (پندرہ لاکھ روپے) تک کی کمی کر دی۔ اس وجہ سے ہم نے دوبارہ یہ خیال ترک کر دیااور میرے والدین نے کہا کہ وہ پلاٹ کا آدھا حصہ دونوں بیٹیوں کو تحفے میں دے دیں گے۔
اب، 2025 میں ہم دوبارہ اس کشمکش میں ہیں کہ کیا ہمیں پلاٹ بیچ دینا چاہیے یا نہیں، کیونکہ ہمیں ہماری مطلوبہ قیمت نہیں مل رہی۔اب ہم درج ذیل سوالات کے جوابات جاننا چاہتے ہیں:
- مثال کے طور پر، اگر ہماری نیت 2018 میں یہ پلاٹ بیچنے کی بنی تھی اور مطلوبہ رقم نہ ملنے کی وجہ سے ہم رُکے ہوئے ہیں اور نہیں بیچ رہے، تو کیا یہ پلاٹ مالِ تجارت میں شمار ہوگا؟ حالانکہ جب یہ پلاٹ خریدا گیا تھا تب نیت بیچنے کی نہیں تھی؟
- اگر یہ مالِ تجارت میں ہی شمار ہوگا، تو اگر (بِاِذنِ اللہ) یہ پلاٹ 2025 میں فروخت ہو جاتا ہے، تو کیا صرف 2025 کی زکوٰۃ واجب ہو گی یا پچھلے سالوں (2017سے 2024 تک) کی بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی؟ اب نیت یہ ہے کہ پلاٹ بیچ کر دونوں بہنوں کو برابر برابر حصہ دے دیا جائے تاکہ اللہ کے وراثت کے حکم پر عمل کیا جا سکے۔
- اگر یہ پلاٹ مالِ تجارت میں شمار ہوتا ہے، اور ہمارے پاس فی الحال کوئی رقم نہ ہو ہر سال زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے، تو ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
مثال کے طور پر، اگر یہ پلاٹ ایک کروڑ روپے کا بک جاتا ہے، اور والدین اس میں سے 80 لاکھ روپے بہنوں کو دے دیتے ہیں، 10 لاکھ روپے سے مجھے کاروبار کروا دیتے ہیں اور باقی 10 لاکھ سے عمرہ ادا کر لیتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعا مال تجارت اس مال کو کہتے ہیں جو بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو اور بعد میں بھی بیچنے کی نیت برقرار ہو،لہذاجوچیزشروع میں تجارت کی نیت سےنہ خریدی گئی ہو،بلکہ بعدمیں اسےفروخت کرنے کا ارادہ کیا ہو تو وہ شرعا مال تجارت میں نہیں آتی،لہذا اس طرح محض ارادےسےاس پرزکوۃ لازم نہ ہوگی،ہاں رقم پر چونکہ بہر حال زکوۃ ہوتی ہے، اس لیے پلاٹ بیچنے پر جو رقم حاصل ہوگی،اس پر زکوۃ سال گزرنے کی شرط پر لازم ہوگی۔(ماخوذ از تبویب: (77799
مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں سوال 1تا 3 کا جواب یہ ہے کہ چونکہ آپ کے والدین نے پلاٹ تجارت یعنی بیچنے ہی کی نیت سے نہیں خریدا تھا، لہذا بعد میں بیچنے کی نیت کر لینے سے اس پلاٹ پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی ،البتہ جب یہ پلاٹ بک جائے گا تو حاصل شدہ رقم کو دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ ملا کر اگر آپ کے والدین صاحب نصاب بنتے ہوں تو اس رقم پر سال گزرنے سے صرف اسی سال کی زکوۃ واجب ہو گی،گذشتہ سالوں کی زکوۃ واجب نہیں ہو گی۔سوال 4 کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اس پلاٹ کے مالک آپ کے والدین ہیں تو اس کو بیچ کر وہ جیسے چاہیں حاصل شدہ رقم کو استعمال کر سکتے ہیں،لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق بھی اس رقم کا استعمال جائز ہو گا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 272):
(لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبع بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارةعملفلا تتم بمجردالنية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 218):
(قوله وتشترط نية التجارة) لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه، وذلك هونية التجارة،
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 179):
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
06 /محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


