| 87927 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص 360,000 روپے کے عوض چار cc125 موٹر سائیکل (قسطوں پر) بیچتا ہے ، ہر موٹر سائیکل کی قیمت 90 ہزار روپے بنتی ہے، جبکہ بازاری قیمت اس سے کئی گنا زیادہ ہے، خریدار 12,000 روپے ماہانہ کی قسط کے حساب سے 30 مہینے میں یہ رقم ادا کرتا ہے۔ ) موٹر سائیکل دینے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ خریدار ہر ماہ 12000روپے قسط جمع کرواتا ہے، اسی طرح اور بھی جن لوگوں نے یہ موٹر سائیکل خریدی ہوتی ہیں ، وہ بھی اپنی قسط جمع کرواتے ہیں ،ان سب لوگوں کے نام قرعہ اندازی ہوتی ہے، جن سات لوگوں کا نام آتاہے، ان کو ایک ایک موٹر سائیکل مل جاتی ہے،اسی طرح اگلے ماہ پھر قرعہ اندازی ہوتی ہے ،پھر سات لوگوں کے نام آتے ہیں ، اور ان کو ایک ایک موٹر سائیکل مل جاتی ہے، جب تک ہر بندے کی چار چار موٹر سائیکل نکلتی ، یہ قرعہ اندازی مسلسل رہے گی۔)
جس خریدار کا نام قرعہ اندازی میں نکل آئے اور اس کی ابھی تک قسطوں کے طور پر موٹر سائیکل کی قیمت نوے ہزار مکمل نہ ہوئی ہو، تو وہ پہلے اپنے اس موٹر سائیکل کی 90000 روپے قیمت مکمل ادا کرتا ہے ، پھر ایک مہینے بعد موٹر سائیکل ملتا ہے۔کیا یہ معاملہ سلم کے طور پر درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں موٹر سائیکل کی خرید و فروخت کا یہ معاملہ نہ تو سلم کی فقہی تکییف پر جائز ہے اور نہ ہی بیع مؤجل(ادہار معاملے ) کے طور پر درست ہے، تفصیل ذیل میں بیان کی جاتی ہے:
مذکورہ معاملے میں اگر سلم کی دیگر شرائط پوری بھی ہوں، تو سلم کے طور پر یہ معاملہ اس لئےدرست نہیں کہ سلم میں مسلم فیہ (جس چیز کی خرید وفروخت ہو رہی ہے ) خریدار کے حوالے کب کی جائے گی ؟ اس وقت کا معلوم ہونا ضروری ہے،اسی طرح رب السلم ( خریدار) کی جانب سے مکمل ثمن (قیمت ) مجلس عقد میں مسلم الیہ (فروخت کنندہ ) کے حوالے کرنا ضروری ہے۔
مذکورہ صور ت موٹر سائیکل کی حوالگی کا وقت متعین نہیں ، اسی طرح ثمن بھی مجلس عقد میں حوالے نہیں کیا جارہا، لہذا یہ معاملہ بطور سلم درست نہیں۔
بیع مؤجل کے طور پر اس لئے درست نہیں کہ مبیع اور ثمن دونوں ادھار پر ہیں،يعنی قیمت بھی قسطوں پر ہے اور موٹر سائیکل بھی عقد بیع کے وقت حا صل نہیں ہورہی ، جبکہ بیع مؤجل میں مبیع خریدار کے حوالے کرنا ضروری ہوتا ہے ، تاکہ ادھار کی ادھار کے بدلے بیع کا معاملہ کرنے کی خرابی لازم نہ آئے، اسی طرح مذکورہ معاملے میں دیگر ایسی شرائط بھی ہیں جو مقتضائے عقد کے خلاف ہیں ؛مثلا موٹر سائیکل کی خریداری کو دیگر لوگوں کی خریداری پر معلق کرنا ،تاکہ قرعہ اندازی ہو سکے ،یہ بھی درست نہیں ،لہذا اس طریقہ سے معاملہ کرنا شرعا ًدرست نہیں۔
حوالہ جات
مختصر القدوري (ص88):
ولا يجوز السلم حتى يكون المسلم فيه موجودا من حين العقد إلى حين المحل ولا يصح السلم إلا مؤجلا ولا يجوز إلا بأجل معلوم ...
ولا يصح السلم عند أبي حنيفة إلا بسبع شرائط تذكر العقد: جنس معلوم ونوع معلوم وصفة معلومة وأجل معلوم ومعرفة مقدار رأس المال إذا كان مما يتعلق العقد على قدره كالمكيل والموزون والمعدود وتسمية المكان الذي يوافيه فيه إذا كان له حمل ومؤنة...ولا يصح السلم حتى يقبض رأس المال قبل أن يفارقه.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي(4/ 14):
إذا كان الثمن مؤجلا إذ ليس للبائع حق حبس المبيع؛ لأنه بالتأجيل أسقط حقه في الحبس.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
07/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


