03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازمت کا حکم
87911سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

کیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازمت اختیار کرنا جائز ہے؟ نیز ابھی بینک میں  State Bank Officer Training Scheme (SBOTS) کی  جاب آئی ہے تو اس میں ملازمت اختیار کر سکتے ہیں؟

 

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسٹیٹ بینک کے شریعہ ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرنا جائز ہے، خواہ کسی بھی قسم کی ہو،کیونکہ اس ڈپارٹمنٹ میں جید علماء کی زیر نگرانی شریعت کے مطابق کام ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ دوسرے ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کام ایسا ہو جس کا تعلق براہ راست سود سے ہو یا وہ کام سودی کاروبار میں بلاواسطہ معاون بن رہا ہوجیسے اکاؤنٹنگ، آڈٹنگ وغیرہ تو ایسی ملازمت ناجائز ہے۔ البتہ جس کام کا تعلق براہ راست سودی کاروبار سے نہیں ہے جیسے سؤیپر ،ڈرائیور وغیرہ تو ایسی ملازمت جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ سودی بینک کی ہر ملازمت سے حتی الامکان بچا جائے۔

SBOTS  دراصل اسٹیٹ بینک کا ایک مینجمنٹ ٹرینی پروگرام ہے جس کا مقصد بینک کے مختلف پالیسی ساز شعبوں کے لیے افسران تیار کرنا ہوتا ہے۔ SBOTS افسران کو درج ذیل اہم اور فیصلہ کن شعبوں میں تعینات کیا جاتا ہے:

  1. Monetary Policy(شرح سود مقرر کرنا)،
  2. Macroeconomic Research and Data(ملکی معیشت کا تجزیہ اور اس کے ڈیٹا پر مبنی پالیسیاں بنانا)،
  3. Financial Markets and Foreign Exchange Reserve Management(مالیاتی مارکیٹ، زرِ مبادلہ)،
  4. Banking Policy and Supervision(بینکوں کی نگرانی اور سودی پالیسی سازی)،
  5. Development Finance and Islamic Banking(ترقیاتی تمویل اور اسلامی بینکاری)،
  6. Financial Inclusion and Digital payment systems(مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام)،
  7. IT and HR،

چونکہ SBOTS افسران کی اکثریتی تعیناتی ان شعبہ جات میں ہوتی ہے جن کا تعلق براہ راست سودیا  سودی  معاملات میں بلا واسطہ معاونت سے ہے،اس لیے ان شعبوں میں  ملازمت اختیار کرنا شرعاً  جائز نہیں۔ تاہم اگر کسی مخصوص شعبے جیسے اسلامی بینکاری وغیرہ میں تعینات ہو، یعنی جس کا تعلق براہ راست سود  یا  سودی معاملات میں معاونت سے نہ  ہو تو اس میں ملازمت کی شرعاً گنجائش ہے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (3 / 1219):

 قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» ، وقال: «هم سواء.

 المبسوط للسرخسي (14 / 8):

 وقال - صلى الله عليه وسلم - «الراشي والمرتشي والرايش في النار، ولعن الله من أعان الظلمة، أو كتب لهم» والأصل في الكل قوله {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2]          

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   07  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب