| 87961 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس شخص کےبارے میں کہ جس کا عقیدہ یہ ہو اوروہ کہے کہ عرب میں لوگوں کو قابو کرنے کے لیے کسی شخص کو آگے کر دیا جاتا اور وہ کہتا کہ میں نبی ہوں تو اس طرح لوگ قابو میں ا ٓجاتے۔
میں ایسے شخص کو فاسق و ملحد سمجھتا ہوں اور میں ایک ملازمت پیشہ انسان ہوں، جبکہ (میم -الف )نامی میرا افسر درج بالا فاسقانہ عقیدہ رکھتاہے اور میرے سامنے اس عقیدے کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس حوالےسے فتوی درکار ہے، کیونکہ یہ میرے ایمان اور عقیدے کا مسئلہ ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ نبوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ منصب ہے، یہ نہ کسی انسانی جدوجہد کا نتیجہ ہے اور نہ کسی سیاسی مصلحت کا منصوبہ۔لہذا جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبی کو اللہ تعالیٰ نے نہیں بلکہ عربوں کے ہاں انسانوں کو قابو میں لانے کے لیے بطور منصوبہ آگے بڑھایا گیاتو ایسا عقیدہ صریح کفر اور دین اسلام سے خروج ہے۔اگر کوئی مسلمان ایسے عقیدے کو اپنائے تو وہ مرتد ہو جاتا ہےاور اس کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
اورجس کے سامنے ایسے عقیدے کا اظہار کیا گیا ہو تو اس کےلیے ضروری ہے کہ اس شخص کے اس خطرناک عقیدہ سےوہاں کی انتظامیہ کو آگاہ کرے،تاکہ وہ اس شخص کی مستند علماء سے ملاقات کرواکر اس کی غلط فہمی کو دور کرسکیں ،اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو متعلقہ حکومتی اداروں کو اس کے خلاف کاروائی کے لیے اطلاع دے کر ان کے حوالے کیا جائے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ. (سورۃالأنعام 124) ، وفی( سورۃ النجم، آیت 4): إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَی.
«شرح العقيدة الطحاوية» (1/ 153):
إِنْكَارُ رِسَالَتِهِ صلى الله عليه وسلم طَعْنٌ فِي الرَّبِّ تبارك وتعالى، وَنِسْبَتُهُ لَهُ إِلَى الظُّلْمِ وَالسَّفَهِ، تَعَالَى اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا، بَلْ جَحْدٌ لِلرَّبِّ بِالْكُلِّيَّةِ وَإِنْكَارٌ.»
«شفاء العليل في مسائل القضاء والقدر والحكمة والتعليل - ط المعرفة» (ص31):
«{لَوْلا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ} فأخبر سبحانه أنه لا يبعث الرسل باختيارهم وأن البشر ليس لهم أن يختاروا على الله بل هو الذي يخلق ما يشاء ويختار ثم نفى سبحانه أن تكون لهم الخيرة كما ليس لهم الخلق.
«منهاج السنة النبوية» (5/ 108):
«وَقَالَ تَعَالَى: {وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ} [سُورَةُ الْأَنْعَامِ: 124] (2) ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ أَعْلَمُ بِالْمَحَلِّ الَّذِي يُنَاسِبُ الرِّسَالَةَ، وَلَوْ كَانَ النَّاسُ مُسْتَوِينَ، وَالتَّخْصِيصُ بِلَا سَبَبٍ، لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الْعِلْمِ مَعْلُومٌ يَخْتَصُّ بِهِ مَحَلُّ الرِّسَالَةِ. وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ قَدْ أَخْبَرَ أَنَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ، وَالِاصْطِفَاءُ افْتِعَالٌ مِنَ التَّصْفِيَةِ، كَمَا أَنَّ الِاخْتِيَارَ افْتِعَالٌ مِنَ الْخِيرَةِ، فَيَخْتَارُ مَنْ يَكُونُ مُصْطَفًى. وَقَدْ قَالَ: {اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ}
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
7/محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


