| 87844 | نماز کا بیان | مسجدکے احکام و آداب |
سوال
اگر بالفرض کوئی شخص مرکزی مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر، کمیٹی کی رضامندی کے بغیر، جنازہ گاہ بنوا دیتا ہے تو کیا وہاں میت دفن کرنا جائز ہوگا؟ اور اگر کسی میت کو وہاں دفن کر دیا جائے تو کیا اسے وہیں رہنے دیا جائے گا یا نکال کر کہیں اور منتقل کرنا لازم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسجد بنانے کے لیے موقوفہ زمین میں میت کو دفن کرنا شرعًا جائز نہیں ہے، اگر کسی نے مسجد کی وقف زمین میں میت کو دفن کیا تو اب اس میت کو وہاں سے نکال کر کسی قبرستان میں منتقل کردیا جائے یا قبر کی زمین کو برابر کردیا جائے؛ تاکہ واقف کا مقصد فوت نہ ہو اور اوقاف کو غیر اوقاف کے ساتھ مشغول کرنا لازم نہ آئے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 199)
"حفر قبرًا فدفن فيه آخر ميتًا فهو على ثلاثة أوجه: أن الأرض للحافر فله نبشه وله تسويته، وإن مباحةً فله قيمة حفره، وإن وقفًا فكذلك.(قوله: فله نبشه) أي نبشه لإخراج الميت (قوله: وله تسويته) أي بالأرض والزراعة فوقه، أشباه (قوله: وإن وقفًا فكذلك) أي فله قيمة حفره وهذا ذكره في الأشباه بحثا فقال: وينبغي أن يكون الوقف من قبيل المباح، فيضمن قيمة الحفر ويحمل سكوته عن الضمان في صورة الوقف عليه اهـ أي على الضمان في المباح، وفي حاشية أبي السعود عن حاشية المقدسي، وهذا لو وقفت للدفن فلو على مسجد للزرع والغلة فكالمملوكة تأمل اهـ.
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
5 محرم الحرام1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


