03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
الکحل والے کاسمیٹک مصنوعات کے استعمال کا شرعی حکم
88053جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر کسی کریم، لپ اسٹک یا کسی کاسمیٹک پروڈکٹ میں الکحل (Alcohol) شامل ہو تو اس کا استعمال شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ الکحل کی تین قسمیں ہیں:

(1) ایک وہ الکحل جو منقیٰ، انگور،کشمش یا کھجور سےحاصل کیاگیا ہو،یہ بالاتفاق ناپاک وحرام ہے اور اس کا داخلی وخارجی استعمال اور اس کی خرید و فروخت جائز نہیں   ہے۔

(2) دوسرا وہ الکحل جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جَو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کی گیا ہو۔

(3) تیسری قسم وہ الکحل ہے جو کیمیکل سے بنتا ہے،آخری دونوں قسموں کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے بشر ط یہ کہ نشہ آور نہ ہواور یہ پاک ہے ۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں اگر ہاتھ، چہرے اور جسم  پر استعمال کی جانے والی مصنوعات (face products)

میں پہلی قسم کا الکحل شامل ہو جوکہ حرام ہے، تو اس صورت میں ایسی مصنوعات کا استعمال جائز نہیں ہوگااور اگر ان مصنوعات میں دوسری اور تیسری قسم کے الکحل شامل ہوں ، تو ایسی مصنوعات کا خارجی استعمال جائز ہوگا۔ 

واضح رہے کہ عام طور پر فیس واش، باڈی اسپرے اور پرفیوم وغیرہ میں جو الکحل استعمال ہوتی ہے وہ عام طور پر انگوریاکھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کیا جاتا، بلکہ دیگر اشیاء سے بنایا جاتا ہے، لہذا  کسی چیز  کے بارے میں جب تک تحقیق سے ثابت نہ ہوجائے کہ اس میں پہلی قسم (منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب )کا الکحل شامل  ہے ، اس وقت تک اس کے استعمال کو ناجائز اور حرام نہیں کہا جائے گا، تاہم اگر احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

حوالہ جات

«تکملہ فتح الملہم»(3/ 506):

"«و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة ( Alcohols ) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.

و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."»

«تکملہ فتح الملہم»(3/ 551):

"«وإنما نبهت علی هذا لأن الکحول المسکرة الیوم صارت تستعمل في معظم الأدوية ولأغراض کیمیاوية أخری ولاتستغنی عنها کثیر من الصناعات الحدیثة، وقد عمت بها البلوی واشتدت إليها الحاجة، والحکم فيها علی قول أبي حنیفة سهل؛ لأنها إن لم تکن مصنوعةً من النئي من ماء العنب فلا یحرم بیعها عنده، والذي یظهر لي أن معظم هذه الکحول لاتصنع من العنب، بل تصنع من غیرها، وراجعت له دائرة  المعارف البریطانیة المطبوعة 1950م (1/544) فوجدت فیها جدولاً للمواد التي تصنع منها هذه الکحول، فذکر في جملتها العسل، والدبس، والحب، والشعیر، والجودار،وعصیرأناناس (التفاح الصوبری)، والسلفات، والکبریتات، ولم یذکر فیه العنب والتمر، فالحاصل أن هذه الکحول لو لم تکن مصنوعةً من العنب والتمر فبیعها للأغراض الکیمیاویة جائز باتفاق بین أبي حنیفة وصاحبیه، وإن کانت مصنوعةً من التمر أو من المطبوخ من عصیر العنب فکذلک عند أبي حنیفة، خلافاً لصاحبیه، ولو کانت مصنوعةً من العنب النئي فبیعها حرام عندهم جمیعاً، والظاهر أن معظم الکحول لا تصنع من عنب ولا تمر، فینبغي أن یجوز بیعها لأغراض مشروعة في قول علماء الحنفیة جمیعاً." »

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 459):

«‌الأصل ‌في ‌الأشياء ‌الإباحة ‌وأن ‌فرض ‌إضراره ‌للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل،.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/ محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب