03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک جانب سے سرمایہ،دوسری جانب سے عمل کی صورت میں شرکت کا حکم
87963شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

سائل سے زبانی تفصیلی معلومات کے بعد معاملے کی مکمل تفصیل:

میں، عبدالرحمٰن ولد محمد امین، نے شیر محمد کے ساتھ ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں  شراکت داری کی۔ منصوبہ یہ تھا کہ ایک خالی زمین دستیاب ہوئی، جس پر پلاٹنگ کرکے آگے فروخت کرنی تھی۔ شیر محمد نے مجھ سے کہا کہ آپ سرمایہ فراہم کریں، ہم یہ زمین خرید کر منافع میں شریک ہوں گے۔ میں نے معذرت کی کہ میرے پاس سرمایہ نہیں، تو اس نے کہا کہ "سرمایہ میرا ہوگا، لیکن آپ میرے ساتھ کام کریں گے اور جو منافع ہوگا اُس میں آپ کا 25فیصد اور میرا 75فیصد حصہ ہوگا۔"اس معاہدے کے تحت ہم نے  مل کر کام شروع کیا۔ اس دوران ہم نے باقاعدہ دو دفاتر قائم کیے، ایک دفتر میں شیر محمد اور دوسرے میں میں بیٹھتا تھا۔ ہم نے کمیشن ایجنٹس بھی رکھے، جو خریدار لاتے تھے اور ہر کامیاب سودے پر متعلقہ ایجنٹ کوپچاس ہزار (50,000) روپے بطور کمیشن دیے جاتے تھے۔دومہینے تک  ہم دونوں خریداروں سے ملاقات، بات چیت، سودے کی تکمیل اور دیگر کاموں میں برابر شریک رہے۔ اس چھ ماہ کی مدت میں ہم نے تقریباً 105 پلاٹ فروخت کیے، جن میں فی پلاٹ 1 لاکھ سے 2.5 لاکھ روپے تک منافع ہوا۔

دو  مہینے کے بعد میں نے شیر محمد سے کہا کہ  چار ماہ بعد میری شادی طے ہوئی ہے اورہم شراکت میں کام کر رہے ہیں، لہٰذاتین سے چار لاکھ روپے شادی کے اخراجات کے لیے دے دیں، بعد میں حساب کر لیں گے۔ اس نے کہا: "پہلے اپنا گھر دکھاؤ"، میں نے گھر دکھا دیا تو وعدہ کیا کہ رقم کا انتظام ہو جائے گا۔جب شادی کے چند دن رہ گئے تو دوبارہ تقاضا کیا، مگر اس نے معذرت کرلی اور کہا: میرے پاس فی الحال پیسے نہیں ہیں، آپ دوسرے دفتر میں بیٹھیں، میں منافع میں سے ماہانہ دس ہزار روپےآپ کو  دیا کروں گا ، جن سے فی الحال آپ اپنا خرچہ پورا کیا کریں۔میں نے کہا کہ میرے موٹر سائیکل کے پیٹرول کا خرچہ ہی پندرہ ہزار ہے، تو اس نے کہا: "میں اس سے زیادہ نہیں دے سکتا۔اس پر  میں نے  کہا کہ پھر بہتر ہے کہ ہم شراکت داری کا حساب کتاب کر کے معاملہ ختم کر لیتے ہیں،ا س نے جواب دیا کہ دو دن بعد آ جاؤ، ہم حساب کر لیں گے، لیکن دو دن بعد بھی اس نے معاملے کو مؤخر کر دیا اور بات رفع دفع ہو گئی۔

ہم نے تقریباً چھ ماہ باہم مل کر کام کیا تھا،اس چھ ماہ کی مدت میں ہم نے تقریباً 105 پلاٹ فروخت کیے، جن میں فی پلاٹ 1لاکھ سے 2.5 لاکھ روپے تک منافع ہوا تھا۔

اس کے بعد میں پروجیکٹ مینیجر ابراہیم بھائی کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ شیر محمد میرے ساتھ زیادتی کررہا ہے، براہِ کرم ہمارا معاملہ حل کر دیں۔ ابراہیم بھائی نے کہا کہ میں یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو میرا فیصلہ ہر حال میں قبول کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ مجھے منظور ہے۔

ابراہیم بھائی نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ میں 25 فیصد شراکت دار ہوں اور اب تک ہم تقریباً 105 پلاٹ فروخت کر چکے ہیں، جن میں فی پلاٹ ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے تک منافع ہوا ہے، یوں مجموعی منافع میں میرے حصہ کا اندازاً 40 سے 45 لاکھ روپے بنتا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ میرے حصے کے آدھے پیسے (جوتقریباً بائیس لاکھ پچاس ہزار روپے بنتے ہیں)دلوادیں، بقیہ آدھا چھوڑ دیتا ہوں۔  انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ ہیں، کچھ کمی کریں۔ میں نے پندرہ لاکھ کی پیشکش کی، پھر دس لاکھ، پھر سات لاکھ اور آخر میں پانچ لاکھ پر بات طے ہوئی۔شیر محمد نے وعدہ کیا کہدو،تین دن میں ڈھائی لاکھ روپے دے دے گا۔ تین دن بعد جب میں گیا تو وہ پچاس(50) ہزار روپے کا چیک دینے لگا، جسے میں نے لینے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ قسط وار ہرتین ماہ بعد پچاس  ہزار روپے دیتا رہوں گا۔ جب میں نے یہ بات ابراہیم بھائی کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ اب میں کچھ نہیں کر سکتا۔ کچھ دن بعد ایک اور جرگہ ہوا جس میں مجھے دوماہ انتظار کرنے کا کہا گیا۔ دو مہینے بعد جب میں شیر محمد کے پاس گیا تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگا اور بالآخر کہنے لگا کہ "آپ کا کوئی حق نہیں بنتا۔"پھر ایک اور جرگہ ہوا، جس میں شیر محمد نے 25 فیصد شراکت داری تسلیم تو کر لی، لیکن اب وہ یہ موقف اپنایاہوا ہے  کہ مفتی صاحبان سے مسئلہ پوچھیں گے کہ جتنی مدت  آپ نے کام کیا ہے اس میں آپ کا حق بنتا ہے یا نہیں  ؟براہ کرم اس پورے معاملے میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عقدِ شراکت (شرکتِ اموال) کے صحیح ہونے کے لیے دونوں شریکوں کی طرف سے سرمایہ (مال) کا ہونا ضروری ہے۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ ایک فریق (شیر محمد) نے سرمایہ فراہم کیا، جبکہ دوسرے فریق (عبد الرحمن) کی طرف سے صرف عمل شامل تھا، اس لیے یہ شرکتِ اموال کے شرعی تقاضوں کے مطابق درست نہیں۔نیز یہ معاملہ مضاربت بھی نہیں کہلا سکتا، کیونکہ مضاربت میں عامل (کام کرنے والا) صرف محنت کرتا ہے اور رب المال (سرمایہ دار) کام میں شریک نہیں ہوتا، جبکہ یہاں سرمایہ دار یعنی شیر محمد خود بھی کام میں شریک تھا، جو مضاربت کی شرائط کے خلاف ہے۔

نیز 45 لاکھ روپے کے بدلے 5 لاکھ روپے پر ہونے والی صلح بھی شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ یہ صلح اس بنیاد پر کی گئی تھی کہ عبد الرحمن شراکت داری کی بنا پر 45 لاکھ روپے کا حق دار ہے، حالانکہ شرعی لحاظ سے یہ شراکت ہی درست نہیں تھی، لہٰذا اس  کی  بنیاد پر کی گئی صلح کا شرعاًکوئی  اعتبار نہیں۔

یہ صورت اجارہ فاسدہ (ناجائز اجرتی معاہدہ) کی  ہے، کیونکہ عبد الرحمن کی محنت کے بدلے کوئی واضح، متعین اور یقینی اجرت مقرر نہیں کی گئی تھی۔ اگرچہ معاہدے میں عبد الرحمن کے لیے منافع کا 25 فیصد حصہ طے کیا گیا تھا، لیکن چونکہ یہ منافع کی بنیاد پر مشروط تھا، اس لیے یہ مجہول (نامعلوم) اور غیر یقینی اجرت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ منافع حاصل ہی نہ ہو، شریعت کی رو سے ایسی شرط پر مبنی اجرت کا معاہدہ فاسد شمار ہوتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ  میں تمام منافع کا مالک شیر محمد ہوگااورعبد الرحمن کو نفع میں کوئی حق حاصل نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنی محنت کے بدلے صرف اجرتِ مثل کا مستحق ہوگا،یعنی جتنی اجرت بازار (مارکیٹ) میں، اتنی مدت تک، اس نوعیت کے کام کی عرفاً مقرر ہوتی ہے، عبد الرحمن اسی کے برابر اجرت (تنخواہ )کا حق دار ہوگا اور اس کا حساب  معلوم کرنے کےلئے پراپرٹی کام کرنے والے غیر جانبدار ماہرین سے فیصلہ کرالیا جائے۔

حوالہ جات

«مجلة الأحكام العدلية» (ص257):

«المادة (1344) إذا اشترك اثنان على أن يحمل أحدهما أمتعته على دابة آخر للجوب بها وبيعها على أن يكون الربح بينهما مشتركا فتكون الشركة فاسدة ويكون الربح الحاصل لصاحب الأمتعة ويأخذ صاحب الدابة أجر دابته  أيضا والدكان كالدابة فلو اشترك اثنان على أن يبيع أحدهما أمتعته في دكان الآخر وأن يكون الربح مشتركا بينهما فتكون الشركة فاسدة ويكون ربح الأمتعة لصاحبهاويأخذ صاحب الدكان أجر مثل دكانه أيضا.»

«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (3/ 359):

«إذا اشترك اثنان على أن يحمل أحدهما أمتعته على دابة الآخر للجوب بها وبيعها على أن يكون الربح بينهما مشتركا على وجه كذا فتكون الشركة فاسدة توفيقا للمادة (1342) حيث إن رأس مال أحدهما عرض ورأس مال الآخر منفعة ويكون الربح الحاصل لصاحب الأمتعة لأن هذا الربح هو بدل ملك صاحب الأمتعة ويأخذ صاحب الدابة أجر مثل دابته أيضا لأن صاحب الدابة لم يرض بتمليك منفعة دابته بلا عوض ولا يختلف الحكم في هذا فيما لو كانت الدابة معدة للاستغلال أو غير معدة أي أنه يلزم أجر المثل في كلتا الحالتين.»

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 85):

وكذا لو شرط في المضاربة عمل رب المال، فسدت المضاربة سواء عمل رب المال معه أو لم يعمل؛ لأن شرط عمله معه شرط بقاء يده على المال، وإنه شرط فاسد.

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

12/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب