| 87947 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ایک شخص نے دوسری شادی کی، جس پر اس کی پہلی بیوی ناراض ہو گئی۔ اب پہلی بیوی کے گھر والے (سسرال) اس شخص سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی دوسری بیوی کو طلاق دےاور اسے دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر تم نے دوسری بیوی کو طلاق نہ دی تو ہم عدالت سے خلع لے لیں گے۔ شوہردوسری بیوی کو طلاق دینے پر بالکل راضی نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر بیوی عدالت سے خلع لے لے اور شوہر اس پر رضامند نہ ہو تو کیا محض عدالتی خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو جائے گا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعت میں یک طرفہ خلع کی کوئی حیثیت نہیں ، خلع کے لئے میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے،اگران میں سے ایک بھی رضامندنہ ہوتوخلع واقع نہیں ہوگا، اس لئےشوہر کی رضامندی کے بغیر اگر عدالت خلع کی ڈگری جاری بھی کردے ،تب بھی وہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگا اور زوجین کا نکاح برقرار رہے گا۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ شوہر کی رضامندی شامل نہیں ہے،اس لئے اسے شرعی خلع قرار نہیں دیا جاسکتا،لہٰذاشرعا نکاح برقرار رہے گا، البتہ اگر شوہر عدالتی خلع کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر دستخط کر دے تو پھر شرعا خلع قرار پائےگااور نکاح ختم ہو جائے گا۔
نیز شریعتِ مطہرہ نے مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت دی ہےاوراسے ایک سے زائد نکاح کرنے میں بیوی یاکسی دوسرے شخص کی اجازت کا پابند بھی نہیں بنایا،اس لئےپہلی بیوی کے گھر والوں (سسرال) کا شوہر سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اپنی دوسری بیوی کو طلاق دے دے، شرعی اعتبار سے ناجائز اور غیر مناسب مطالبہ ہے، جس کا پورا کرنا شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہے ۔
البتہ شوہر پر شرعاً لازم ہے کہ وہ دونوں بیویوں کے درمیان مکمل عدل و انصاف قائم رکھے، خاص طور پر اختیاری معاملات مثلاً: نان و نفقہ، وقت کی تقسیم، شب باشی اور دیگر ازدواجی حقوق میں برابری کا اہتمام کرے،ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہوگا۔دوسری بیوی کو طلاق دینے کے بجائے پہلی بیوی اور ان کے گھر والوں کو حکمت، مصلحت ، نرمی اور محبت سے سمجھائے، تاکہ وہ صبر، برداشت اور دینی بصیرت کے ساتھ ازدواجی زندگی کو خوش اسلوبی سے جاری رکھنے پر آمادہ ہو جائیں۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 145):
«وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول فإنه إذا قال: خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع الطلاق عليها، سواء قبلت أو لم تقبل؛ لأن ذلك طلاق بغير عوض فلا يفتقر إلى القبول»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 441):
«(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع»
«صحيح البخاري» (5/ 1978):
«عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:
(لا يحل لامرأة تسأل طلاق أختها، لتستفرغ صحفتها، فإنما لها ما قدر لها).»
«سنن أبي داود» (2/ 268 ت محيي الدين عبد الحميد):
عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»
«سنن أبي داود» (2/ 242 ت محيي الدين عبد الحميد):
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما، جاء يوم القيامة وشقه مائل»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
11/ محرم الحرام 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


