03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نشہ میں طلاق دینے کا حکم
87992طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

میں اور میری بیوی دوبئی میں تھے،وہاں ہمار جھگڑا ہوا ،تو میں کمرے سے باہر نکلا اور میں نے کہا کہ میں نہیں آؤں گا۔پھر دوستوں کے ساتھ دو تین دن رہا اور نشہ بھی  کرتا رہا۔ایک دن بیوی کو پتہ چلا کہ  میری ایک اور لڑکی کے ساتھ دوستی ہے،وہ میرا پیچھا کرنے لگی،پیچھا کرتے کرتے  میرے پیچھے آئے ،میں اس وقت نشہ میں  تھا ۔ ہم دونوں کے درمیان بحث و مباحثہ اور گالم گلوچ ہوئی،جس کی صورت میں میری بیوی نے مجھ سے طلاق مانگی اور میں نے طلاق دے دی۔مجھے کوئی ہوش و حواس نہیں تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور میں نے تین طلاقیں دے دیں ۔بعد میں میری بیوی اور میرے دوستوں نے مجھے بتایا۔بتانے سے پہلے جب میں نے تین طلاقیں دیں تو وقفے کے بعد پھر تین طلاقیں دیں۔تقریباً ایک گھنٹے بعد میرے دوست میرے پاس آئے کہنےلگے کہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔میں نے کہا کہ کیا  اچھا نہیں کیا؟میری بیوی کی بھی کال آئی ،اس نے بھی کہا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا ۔پھر کچھ دیر بعد مجھے پتہ چلا کہ میں نے کیا کیا؟آیا طلاق ہوئی یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حرام نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں  شوہر نے جب تین طلاقیں دے دیں تو وہ تینوں واقع ہوگئیں اور   عورت حرمت مغلظہ  کی وجہ سے   شوہر پر حرام ہوگئی ۔ رجوع اور تجدید نکاح کی گنجائش نہیں۔مردوعورت کا فوراً ایک دوسرے  سے الگ ہونا ضروری ہے،کسی قسم کا تعلق باقی رکھنا جائزنہیں ہے۔

حوالہ جات

إن كان سكره بطريق محرم لايبطل تكليفه فتلزمه الأحكام، وتصح عبارته من الطلاق و العتاق.

( رد المحتار: 42/4)

و يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) و لو تقديرًا، بدائع ، ليدخل السكران (ولو عبدًا أو مكرهًا) فإن طلاقه صحيح.قوله:( فإن طلاقه صحيح) أي طلاق المكره.( رد المحتار:3/235)

 وإن كان ‌الطلاق‌ ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة ،لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية.(الفتاوى الهندية :1/473)

وطلاق السكران واقع إذا ‌سكر ‌من ‌الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى. كذا في المحيط .)الفتاوى الهندية :353/1 )وخلع السكران وطلاقه وعتاقه واقع عندنا. ..لأن السكران مخاطب، فإذا صادف تصرفه محله نفذ، كالصاحي، ودليل الوصف قوله تعالى: {لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} [النساء: 43]، فإن كان خطابا له في حال سكره فهو نص، وإن كان خطابا له قبل سكره فهو دليل على أنه مخاطب في حال سكره؛ لأنه لا يقال: إذا جننت فلا تفعل كذا؛ وهذا لأن الخطاب إنما يتوجه باعتدال الحال، ولكنه أمر باطن لا يوقف على حقيقته، فيقام السبب الظاهر الدال عليه، وهو البلوغ عن عقل مقامه تيسيرا، وبالسكر لا ينعدم هذا المعنى، فإذا ثبت أنه مخاطب، قلنا: غفلته عن نفسه لما كانت بسبب هو معصية، ولا يستحق به التخفيف لم يكن ذلك عذرا في المنع من نفوذ شيء من تصرفاته بعد ما تقرر سببه؛ لأن بالسكر لا يزول عقله إنما يعجز استعماله لغلبة السرور عليه. (المبسوط للسرخسي (6/ 315:

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

12/محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب