| 87978 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام محمد نجم الثاقب ہے۔ میرا تعلق لاہور سے ہے۔ میں آپ سے طلاق کے ایک مسئلے میں شرعی رہنمائی کا طلبگار ہوں۔میرا نکاح زنیرا فاطمہ سے سنہ 2021 میں ہوا۔ چند سال بعد معاملات بہتر نہ چل سکے تو اکتوبر 2023 میں میں نے اپنی اہلیہ کو پہلی طلاق دی، جو کہ یونین کونسل میں باقاعدہ رجسٹر بھی کروائی گئی۔ اس کے بعد ہم نے رجوع کر لیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد حالات پھر سے خراب ہو گئے اور ہمارے اختلافات مزید بڑھ گئے۔
میری نیت اپنی اہلیہ کو تین طلاقیں کبھی بھی دینے کی نہیں تھی، بلکہ صرف دوسری طلاق دینا چاہتا تھا۔ ہمارا ایک بیٹا بھی ہے۔ چنانچہ میں نے دوبارہ یونین کونسل سے رجوع کیا اور ان سے گزارش کی کہ مجھے طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری کریں کیونکہ پہلی طلاق کی مہر شدہ کاپی میں پہلے ہی انہیں دے چکا تھا۔
یونین کونسل کا عملہ مجھ پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہا کہ میں مزید دو نوٹس بھی جمع کرواؤں، لیکن میں اس پر راضی نہ ہوا۔ میں روزانہ یونین کونسل جا کر ان سے کہتا رہا کہ ایک ہی طلاق کے نوٹس پر سرٹیفکیٹ جاری کریں، لیکن انہوں نے انکار کیا۔ میں نے ایک وکیل بھی مقرر کیا اور اسے یونین کونسل بھیجا، لیکن اس کی بھی کوئی بات نہیں سنی گئی۔ میں نے اب تک اضافی نوٹسوں پر مہر نہیں لگائی اور نہ ہی جمع کروائے، کیونکہ میری نیت مزید طلاقیں دینے کی نہیں تھی۔
بعد ازاں، میں نے اپنی اہلیہ سے خود رابطہ کیا اور انہیں صاف الفاظ میں بتایا کہ میں آپ کو تین طلاقیں کبھی نہیں دوں گا اور اگر سرٹیفکیٹ کے لیے کوئی کارروائی کی گئی تو وہ صرف کاغذی یا رسمی (فارمل) کارروائی ہوگی، جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
میں نے اپنی اہلیہ کو فون پر دوسری طلاق دی اور انہیں دوبارہ وضاحت کی کہ قانونی یا ریاستی سطح پر جو کچھ ہوگا، وہ محض سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ہوگا، نہ کہ حقیقتاً تیسری طلاق۔
یونین کونسل کی کارروائی کے دوران میرے والد اور وکیل دونوں موجود تھے اور وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ میں یونین کونسل کو صاف صاف بتا چکا تھا کہ جو نوٹس دیے جا رہے ہیں وہ جعلی اور فرضی ہیں۔ نہ وہ نوٹس کبھی بھیجے گئے، نہ ہی میری اہلیہ کو ان کے متعلق کوئی اطلاع دی گئی۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شرعی اعتبار سے کیا صرف دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
اور کیا یونین کونسل کی یہ جعلی یا فرضی کارروائی شرعی طور پر کوئی حیثیت رکھتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں سائل کی نیت صرف دو طلاقوں کی تھی۔تیسری طلاق کے کاغذا ت بنوانے سے طلا ق کی نیت نہیں تھی،بلکہ عدم ایقاع کی نیت تھی، ان کاغذات کے جعلی اور فرضی ہونے پر سائل نے گواہ بھی بنالیے تھے ،نیز ان کاغذات پر نہ مہر لگائی اور نہ ہی جمع کروائے،توایسی صورت میں سائل کی بات معتبر ہوگی اور تیسری طلاق نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا. اهـ. (الدر المختارمع رد المحتار: (3/ 238
وإن قال تعمدته تخويفا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى.
(الدر المختارمع رد المحتار: (3/ 249
قال: أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة شرح وهبانية.
(الدر المختار مع رد المحتار:(3/ 293
(التبویب،فتویٰ نمبر:77266)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
12/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


