| 88027 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
ایک شخص ایک سونے کا لاکٹ جس کی اصل قیمت معلوم نہیں تھی، اندازاً اس کی قیمت پچاس ہزار روپے کے آس پاس
مولانا کو مہر کے لیے بتائی گئی۔ مولانا نے نکاح میں اس طرح کہا:"مہر میں ایک سونے کا لاکٹ ہے، جس کی تخمینی قیمت پچاس ہزار روپے ہے۔"
نکاح کے پہلے دن لڑکی کو مہر بتا کر وہ لاکٹ دے دیا گیا، لڑکی کو گمان ہوا کہ اُسے مہر مکمل مل گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر مہر معجل (فوراً ادا کیا جانے والا) تھا، اور لاکٹ کی اصل قیمت پچاس ہزار کے بجائے تین ہزار یا اس سے بھی کم ہو، تو کیا بقیہ رقم اب بغیر کسی شک و شبہ کے بیوی کو دی جا سکتی ہےجبکہ شادی کو تین سال ہو چکے ہیں؟
اس دوران میاں بیوی کا ازدواجی تعلق قائم رہا، اور ایک بچہ بھی ہے۔
کیا اب بقیہ رقم ادا کرنا شرعاً جائز ہوگا؟ کیا اس دوران کوئی گناہ تو نہیں ہوا؟یا نکاح کے صحیح ہونے پر کوئی اثر پڑا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مہر کے حوالے سے شوہر کی غلط بیانی کی وجہ سے نکاح کے انعقاد پر کوئی اثر نہیں ہو ا،تاہم غلط بیانی اور دھوکہ دہی اور دوسرے کے حق کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینے کا گناہ ضرور ہوا،جس کے لیے صدقِ دل سے توبہ و استغفار لازم ہے۔
جہاں تک مہر کا تعلق ہے تو وہ سونے کے لاکٹ مبلغ پچاس ہزار پر طے ہوا، جس کی ادائیگی شوہر کے ذمے لازم ہے،لہذا شوہر پر لازم ہے کہ بقیہ رقم بیوی کو فوری طور پر ادا کرے۔
حوالہ جات
رد المحتار ط الحلبي» (3/ 129):
حاصل هذه المسألة أن المسمى إذا كان من غير النقود بأن كان عرضا أو حيوانا إما أن يكون معينا بإشارة أو إضافة فيجب بعينه أو لا يكون معينا؛ فإن كان غير مكيل وموزون، فإن جهل نوعه كدابة أو ثوب فسدت التسمية ووجب مهر المثل، وإن علم نوعه وجهل وصفه كفرس أو ثوب هروي أو عبد صحت التسمية وتخير بين الوسط أو قيمته وكذلك لو علم وصف الثوب على ظاهر الرواية.
مسند أحمد (31/ 260 ط الرسالة):
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيما رجل أصدق امرأة صداقا والله يعلم أنه لا يريد أداءه إليها، فغرها بالله، واستحل فرجها بالباطل، لقي الله يوم يلقاه وهو زان، وأيما رجل ادان من رجل دينا، والله يعلم أنه لا يريد أداءه إليه، فغره بالله، واستحل ماله بالباطل، لقي الله عز وجل يوم يلقاه وهو سارق.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
14/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


