| 87988 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
سوال:!السلام علیکم !ایک فتوی صادر فرمائیں کہ فدوی نے 2009 میں حج کیا،صورت یہ بنی کہ چھوٹا بھائی جو کہ امریکہ میں تھااس نےامی اور ابو کو حج کروانے کے لیے رقم بھیجی تو امی نے بوجہ معذوری انکار کیا اور اپنی رقم فدوی کو دےدی کہ تم حج کرلو، کہ تمہارے والد دل کے مریض ہیں اور انہیں اکیلے نہیں بھیجنا چاہتی، یہاں پر والدین صاحب حیثیت ہیں اور فدوی انہی کے گھر میں انہی کے ساتھ رہ رہا تھا،چونکہ والدہ 2007 میں حج کرکے آئیں تھیں، فدوی نے والد محترم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تم میرے ساتھ جا رہے ہو اور میں تمہیں یہ حج کروا رہا ہوں تو اس حج کی کیفیت فرض حج پوری ہونے میں آتی ہے؟ آپ سے گزارش ہے کہ اس صورت میں رہنمائی فرمائیں اور فتوی صادر فرمائیں کہ یہ حج بطور فرض فدوی کی طرف سے ادا ہو گیا یا بطور نفلی حج ادا ہو گیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگرنفل حج کی نیت نہ کی گئی ہو،بلکہ مطلق نیت یافرض حج کی نیت کی گئی ہوتو چھوٹےبھائی کی طرف سےدی گئی رقم سےجوحج کیا گیاہےوہ آپ کی طرف سےفرض حج بھی اداء ہوگیاہے،اس لیےکہ حج ساری عمر میں ایک دفعہ فرض ہے،زندگی میں ایک دفعہ حج کرنےسےفرضیت حج ساقط ہوجاتی ہے،اگرچہ دوسرےنےکروایاہو،اگرکوئی مال دارہونےکےبعددوسراحج کرےگاوہ حج فرض نہیں کہلائےگا،بلکہ نفلی سمجھاجائےگا۔
حوالہ جات
"ردالمحتار"2/460: الفقير الآفاقي إذا وصل إلى ميقات فهو كالمكي .....وليفيد أنه يتعين عليه أن لا ينوي نفلا على زعم أنه لا يجب عليه لفقره۔۔ فلو نواه نفلا لزمه الحج ثانيا۔
"غنیة الناسک " 58:واماالفقیر ومن بمعناہ کمن لہ مال مستغرق بالدیون اوبحقوق المسلمین کالظلمۃ من الامراء والسلاطین اذاحج سقط عنہ الفرض ان نواہ(الفرض فی احرام حجہ) او اطلق النیۃ ،حتی لواستغنی بعد ذالک لایجب علیہ ثانیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
11/محرم الحرام 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


