03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عادتا بیوی کوطلاق کے الفاظ کہنے کاحکم
87973طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

 السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ! ایک آدمی کی یہ عادت بنی ہوئی ہے وہ اپنی بیوی کو ہر وقت یہ بات کرتا ہے کہ طلاقی عورت میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں یعنی یہ اس کا تکیہ کلام بن گیا ہے ،شروع میں بیوی کہتی بھی تھی کہ یہ لفظ مجھے اچھے نہیں لگ رہے ہیں ،یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو آگے سے کہتا ہے کہ نیت کا اعتبار ہوتا ہے ،میں تو مذاق کررہا ہوں ،میں کونسا سچ میں دے رہا ہوں یا دے چکا ہوں،یہ بہت عرصے سے ہو رہا ہے، بیوی کو کسی نے کہا ہے کہ اس سے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، تو وہ اب بہت پریشان ہیں۔حکم بتادیجیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 بیوی کو طلاق کے الفاظ کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،اگرچہ مذاق میں یا عادتا کہے ہوں اوریہ صریح الفاظ ہیں،اس لیے ان میں طلاق کے وقوع کےلیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے،صورت مسئولہ میں شوہر نے بتایا ہے کہ وہ ہزل(مذاق)کرتارہتاہے یعنی اس کی نیت کسی طلاق کی خبر دینے کی نہیں تھی،لہذا اگر اس نے یہ جملہ "میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں "تین دفعہ کہا ہوتو اس سے تین طلاق واقع ہوچکی ہیں،اور میاں بیوی کا تعلق ختم ہوچکا ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع: (101/3، ط: دار الکتب العلمیة):

أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة " مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

12/ محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب