03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبردستی کی تحریری طلاق کاحکم
88447طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میں محمد عارف اسماعیل میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ میرے اس مسئلے پر نظر ثانی فرمائیں اور بہتر رہنمائی فرمائیں،میری بہن اور بہنوئی میں علیحدگی ہو چکی ہے۔

 (بقول میری بہن ) : میرا شوہر آئے دن مجھ پر بہتان تراشی کرتا تھا. اور میں نے بہت حد تک اس چیز کو برداشت کیا مگر یہ بچوں کے سامنے بھی مجھ پر ہر وقت بہتان لگاتا رہتا تھا۔ ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا تھا ۔ فضول میں دوسروں سے بھی لڑتا اور محلے میں بھی سب کو برا بھلا کہا اور اس بار تو اس نے بہتان لگانے پر حدہی پار کردی جو کہ میری برداشت سے باہر ہو چکا تھا اور پھر اب کی بار میں نے زبردستی اس سے طلاق لے لی۔ اس سے زبردستی کہلوایا بھی اور لکھوایا بھی ۔ کیونکہ اب میں تو مزید اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔ میرے طلاق کے مطالبے پر اس نے کہا کہ وہ ابھی مجھے طلاق نہیں دے گا،بلکہ جب اُسکے بہن بھائی سب موجود ہوں گے تبھی وہ مجھے طلاق دے گا،مگر میں نے کہا کہ نہ تو تمہارے بہن بھائی اکٹھ ہوں اور نہ ہی تم مجھے طلاق دو گے، تو میں نے موقع پر ہی اس سے زبردستی طلاق لے لی۔

(بقول میرے بہنوئی ) :میری بیوی اور بیٹے نے مل کر مجھ سے زبردستی طلاق لی۔جبکہ میں اسکے حق میں بالکل نہیں تھا ۔ اُنھوں نے زبردستی مجھے ڈرا دھمکا کر کہ اگر میں طلاق نہیں دونگا تو یہ لوگ مجھے نقصان پہنچائیں گے ، مجھ سے زبردستی لکھوایا " طلاق ، طلاق طلاق،" میں نے صرف اور صرف اپنی جان کا تحفظ کرنے کے لیے فی الموقع اسکو لکھ کر طلاق دی ۔ اس میں میری اپنی کوئی مرضی شامل نہیں تھی۔ ،برائے مہربانی اس مسئلے کا کوئی حل اگر ممکن ہو تو بتائیے یہ معاملہ ہوئے 7 ماہ گزرچکے ہیں اور یہ تاخیر ا س لیئے ہوئی کہ میری بہن بھی اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ رہنے پر رضامند نہیں اور وہ ابھی اسی بات پر قائم ہے لیکن ہم چاہ رہے ہیں کہ اگر کوئی رستہ نکل جائےیا اگر یہ طلاق جائز نہیں،چونکہ میری بہن نے خود زبردستی طلاق لی جبکہ کوئی خلع وغیرہ کا مطالبہ نہیں تھا یا باقاعدہ کسی بھی گواہان کے سامنے کوئی اس ایسا معاملہ نہیں آیا کہ عدالت میں جا کر خلع کا مطالبہ کیا ہو۔ میری بہن نے زبردستی اپنے شوہر سے طلاق لی،جس میں شوہر کی رضا بالکل شامل نہ تھی ۔ اور اب وہ اکیلا دربدر گھوم رہا ہے اور میری بہن اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ مل کر رہ رہی ہے۔ ہم چاہ رہے ہیں کہ اگر کوئی گنجائش نکل آئے کہ ان دونوں کا ملاپ ہو سکے تو انکی آپس میں صلح کروا دی جائے تاکہ یہ دوبارہ مل کر رہ سکیں . اور میری بہن ابھی بھی اس حق میں نہیں ہے تو مہربانی اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیایہ طلاق ہو چکی ہے ؟ کیا انکا ملاپ ممکن ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔اگر شوہرکوظن غالب یایقین تھاکہ طلاق نہیں دی تو بیوی اور بچے مل کر ناقابل تحمل نقصان پہنچائیں گے،یعنی جان سے مارنے،کسی عضو کو توڑنے،قید میں ڈالنے یا گھر سے نکالنے کی دھمکی دی ہو،وہ نقصان پہنچانے پر قدرت بھی رکھتے ہیں،اور شوہر کے پاس بچاؤ کا ذریعہ موجود نہیں تھا،نیز شوہر نےزبان سے طلاق کے الفاظ ذکر  نہیں کیےہیں ،تو اس صورت میں دیانةً طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، دیانةً کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی اس طلاقنامے کو دلیل بناکر طلاق کا دعوی نہیں کرتی تو طلاق نہیں ہے۔

اگرشوہر کو اس بات پریقین تھاکہ تحریری طلاق نہ دینے کی صورت میں ایساکچھ نہیں ہوگا، بیوی اور بچوں کی دھمکی محض وقتی طور پر صرف دباؤڈالنےکی حدتک ہے،یاشوہر نے زبان سے طلاق کے الفاظ کہے ہیں توایسی صورت میں طلاق نامےمیں مذکورہ طلاقیں واقع ہوجائیں گی،چونکہ طلاق نامہ میں تین طلاقیں دی گئی ہیں،لہذاایسی صورت میں تین طلاق مغلظہ واقع ہوجائیں گی،اوربیوی شوہرپرحرام ہوجائےگی۔

2۔بیوی کے بیان میں چونکہ یہ موجود ہے کہ شوہر نے زبانی بھی طلاق کے الفاظ کہے ہیں،جبکہ یہ بات شوہر کے بیان میں نہیںہے،اس لیے اگر شوہر اس بات کو مانتا ہے کہ زبانی بھی طلاق دی ہے پھر تو تین طلاق واقع ہوگئی ہیں،اور اگر وہ اس بات سے منکر ہے،اور بیوی کے پاس گواہ موجود ہیں تو بھی بیوی کی بات معتبر ہوگی یعنی تین طلاق واقع ہوگئی ہیں،اگر بیوی کے پاس گواہ موجود نہیں ہیں،مگر اس نےشوہر کے زبانی الفاظ سنے ہوں یا تحریری طلاق کی صورت میں شوہر کے واقعی مجبور ہونے کا دلی اطمینان نہ ہو تواس کےلیے شوہر کے ساتھ رہنا اور اس کو اپنے اوپر قدرت دینا شرعا جائز نہیں ہوگا۔اور اگراس نے شوہر سے طلاق کے الفاظ نہیں سنے ہیں،نیز تحریری طلاق کے

بارے میں شوہر سے اس بات پر قسم لے کر اطمینان حاصل ہوکہ اس نے واقعتا شدید دباؤمیں آکر دلی رضامندی

کے بغیر تحریری طلاق دی ہے تو اس کے لیےشوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے۔

3۔ تین طلاق دیے جانے  کے بعد  عورت کا پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کا  شرعی  طریقہ یہ ہے کہ  خاتون  پہلے طلاق کی عدت گزارے،پھرکسی دوسرے شخص کے ساتھ  دائمی نکاح کر لے ، اس میں  خاص  وقت کے بعد  طلاق دینے کی کوئی شرط نہ ہو،پھرکم ازکم ایک بار میاں بیوی والا تعلق قائم ہوجانے کے بعد کسی وقت اتفاقا  وہ طلاق دیدے  یا مر جائے  تو  عدت گزرنے کے بعد یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے ،اگر طلاق کی شرط لگا کر نکاح کیاجائے تو یہ باعثِ لعنت ہے،ایسا کرنا درست نہیں ہے،مگر اس سے بھی عورت  پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی،البتہ  زبان سے شرط نہ لگائی جائے اور کوئی شخص میاں بیوی کی ہمدردی اور خیر خواہی کی نیت سے دل میں طلاق کی نیت رکھتا ہو اور پھر نکاح اور ہمبستری کے بعد طلاق دیدے تو اس میں کوئی حرج نہیں،بلکہ باعثِ اجر ہے۔

واضح رہے کہ اوپر ذکرکردہ حکم اصول طور پر ہے،سائل سے متعلق حقیقی حکم معلوم کرنے کےلیے دوباتوں کی وضاحت ضروری ہے:۔

1۔ڈرانے ،دھمکانے کی کیفیت اور دھمکی کی نوعیت بتائی جائے کہ بیوی اور بچوں نے کسی طرح ڈرایا یا دھمکایا؟اور کیا وہ اس پر قدرت بھی رکھتے تھےیا وہ یہ کام کرسکتے تھے؟

2۔زبانی طلاق کے بارے میں میاں بیوی کے بیان میں تضاد ہے،کیا شوہر زبانی طلاق کا اقرار کر رہا ہےیا ان کے درمیان اختلاف ہی ہے؟

لہذا صورت مسئولہ کا حتمی جواب ان باتوں کی وضاحت کے بعد دیا جاسکتاہے۔

حوالہ جات

"حاشية رد المحتار" 3 / 271:

"وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا۔"

"رد المحتار" 10 / 458:

"وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ،لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ۔"

"رد المحتار" 6 / 128:

"(و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه

وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال۔" 

وفي الهنديه(10/196) :

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ۔

وفی التبیین(6/486)  :

قال رحمه الله ( وكره بشرط التحليل للأول ) أي يكره التزوج بشرط أن يحلها له يريد به بشرط التحليل بالقول بأن قال تزوجتك على أن أحلك له أو قالت المرأة ذلك .وأما لو نويا ذلك في قلبهما ولم يشترطاه بالقول فلا عبرة به ويكون الرجل مأجورا بذلك لقصده الإصلاح

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

29/ صفر 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب