| 88002 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام ..........ہے ،میں جب غصہ میں ہوتاہوں تو مجھے ہوش نہیں ہوتا کہ میں کیا بول رہاہوں،اور بعد میں مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ میں نے کیا کیا بولا ہے؟جس دوران میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور میں نے اپنی بیوی کو صرف طلاق کا نام لیا ہے تین بار اور بعد میں جب غصہ ختم ہوا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ میں نے کیا کیا بولا ہے،تو مفتی صاحب کیامیری طلاق ہوچکی ہے یا نہیں ؟
وضاحت:شوہر سے یہ پوچھا گیا کہ اس جملے "طلاق کا نام لیا ہے تین بار" سے کیا مراد ہے؟انہوں نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو اس طرح کہا ہے:"اگر تم بے پردگی کروگی تو میں تمہیں طلاق دیدوں گا"
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مفتی ،ظاہری سوال کے مطابق جواب دیتاہے،اس لیے اگر یہ سوال حقیقت کے مطابق نہ ہویا اس میں کسی بات کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہوتواس کی ذمہ داری سوال کرنے والے پر ہوگی،مفتی کے جواب دینے سے کوئی چیز حرام سے حلال نہیں بن جائے گی،طلاق کا معاملہ چونکہ بہت ہی نازک ہے ،حلال وحرام سے متعلق ہے ،اس لیے اس میں احتیاط کی شدید ضرورت ہے۔لہذااگر سوال میں موجود الفاظ، جن میں تین دفعہ طلاق کی بات کی گئی ہے، ہی درست ہیں تو حکم یہ ہے کہ عام طور پر طلاق غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے اور عام غصے کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے،اس لیے تین طلاق واقع ہوگئی ہیں،البتہ اگر غصہ اتنا شدید ہو کہ اس دوران شوہر بالکل حواس باختہ ہوجائے اور اسے اپنے اوقوال اور افعال کی کچھ خبر نہ ہو ،اس کی مذکورہ کیفیت لوگوں میں مشہور ہے اور وہ حلفیہ بیان دے کہ طلاق کے الفاظ بولتے وقت اس پر یہی کیفیت طاری تھی تو طلاقیں واقع نہیں ہوئیں اور اگر غصے کے وقت اس کی مدہوشی کی یہ کیفیت لوگوں میں معروف نہ ہو تو پھر اگر دو معتبر مرد یا ایک معتبر مرد اور دو عورتیں یہ شہادت دیں کہ بوقت طلاق اس پر یہ کیفیت طاری تھی تو بھی طلاق نہیں ہوگی۔
لیکن اگر غصے کے وقت شوہر کی یہ کیفیت لوگوں میں معروف نہیں اور نہ اس کے پاس اس پر گواہ موجود ہیں تو پھر
طلاق واقع ہوجائے گی۔
اگر شوہر نے واقعتا وضاحت میں موجود الفاظ"اگر تم بے پردگی کروگی تو میں تمہیں طلاق دیدوں گا"کہے ہیں،توطلاق واقع نہیں ہوئی ہے،اس لیے کہ طلاق ماضی یا حال پر دلالت کرنے والے الفاظ کے ساتھ واقع ہوتی ہے ،جن الفاظ میں مستقبل میں طلاق دینے کے عزم کا اظہاریا دھمکی ہو ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی،البتہ آیندہ کےلیے ایسے الفاظ کے استعمال سے اجتناب کرناچاہیے ۔
حوالہ جات
" رد المحتار" (3/ 244):
"وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ".
"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية "(1/ 38):
"(سئل) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟
(الجواب) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم الله تعالى".
"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية "(1/ 38):
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
12/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


