03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میاں بیوی میں ناچاقی کا حکم
88016نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میری شادی مورخہ 10 جون 2024 کو ہوئی۔ شادی کے بعد میری بیوی نے مجھے خود بتایا کہ وہ اس نکاح پر راضی نہیں تھی اور اس نے اپنے والدین کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ وہ یہ رشتہ نہیں کرنا  چاہتی، لیکن اس  کانکاح زبردستی کروایا گیا۔ شادی کے بعد تقریباً پچپن دن تک وہ میرے ساتھ رہی اور اس دوران اس کا رویہ بھی سخت و ناراضگی والا رہا۔ بعد ازاں 6 اگست 2024 کو اس کی والدہ اسے اپنے ساتھ واپس لے گئی۔ اس کے بعد کچھ جرگے ہوئیں، مگر ان جرگوں میں انصاف کے بجائے صرف  درمیانہ   فیصلہ دیا گیا، اور مجھ سے (یا میرے والد سے) تحریری طور پر یہ نہیں پوچھا گیا، کہ ہم اس فیصلے کو مانتے ہیں یا نہیں؟ بلکہ جرگے نے خود ہی کہا کہ :ہم انصاف نہیں کر سکتے، اس لیے درمیانی بات طے کر رہے ہیں،جس میں حق مہر کا آدھا حصہ ان کے پاس اور آدھا میرے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، میرے پاس شادی سے پہلے کے شواہد موجود ہیں کہ میری بیوی کے ایک غیر مرد سے (۲۰۲۳ء)تک مستقل رابطے تھے اور شادی کے بعد جب وہ میرے گھر میں تھی، 29 جولائی 2024 کو اس نے اسی مرد کو دوبارہ Facebook پر ایڈ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رشتے کے دوران بھی پرانے تعلق کو دوبارہ بحال کرنا چاہتی تھی۔ اگرچہ میسیجز میں غیر اخلاقی الفاظ نہیں، مگر تعلق اور مسلسل رابطہ موجود رہا۔

اب میں شرعی طور پر یہ جاننا چاہتا ہوں:

۱۔ کیا اس نکاح کی شرعی حیثیت باقی ہے، جبکہ لڑکی پہلے دن سے اس پر راضی نہیں تھی؟جبکہ نکاح نامہ پر لڑکی کے دستخط موجود ہے اور مجلس نکاح میں لڑکی کا چچا وکیل تھا اور عقد نکاح  اسی نے کیا تھا۔

۲۔ کیا ایسی لڑکی کے لیے مہر واجب الادا ہے جس نے نہ دلی رضامندی سے نکاح کیا، نہ شوہر کے ساتھ اخلاص رکھا؟

۳۔ اگر شوہر طلاق دے، تو کیا وہ مہر دینے کا پابند ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 درج بالا تفصیلات اگر حقیقت پر مبنی ہیں تواس کا حکم درج ذیل ہے۔ ہر سوال کا جواب ترتیب وار دیا جارہا ہے:

۱۔لڑکی نےجب  اپنے چچا کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا اور اس(چچا) نے اس کی طرف سے نکاح قبول کیا تو یہ نکاح منعقد ہو گیا اور ساتھ ساتھ جب  لڑکی  نے نکاح نامے پر جب دستخط کئے تو اس سے واضح ہوا کہ لڑکی نے اس وقت نکاح قبول کیا تھا،لہذا  دونوں کے درمیان  عقد ِنکاح باقی ہے۔اب لڑکی کہیں اور نکاح نہیں کرسکتی ، یہاں تک کہ طلاق نہ  ہوجائے ، یا پھر میاں بیوی  باہمی رضامندی سے خلع  کرلیں۔

۲۔صورت مسئولہ میں آپ کے ذمے بیوی کا مہر ادا کرنا واجب ہے ، کیونکہ  بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد مہر کی ادائیگی شوہر پر   لازم ہوتی ہے۔بیوی نے شوہر کی اطاعت کی اور نہ ہی اخلاص کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی ،لہذا اس پر وہ گناہ گار ہوگی۔

۳۔  صورت مسئولہ میں  اگر شوہر بیوی کو طلاق دے گا تو وہ پورا  مہر ادا کرنے کا پابند ہوگا ۔  البتہ میاں بیوی دونوں  باہمی رضامندی سے خلع کرنا چاہیں  تو خلع بھی کرسکتے ہیں۔ خلع کی صورت میں آپ  نے جو مہر بیوی کو دیا ہے اس کا  لینا آپ کے لئے جائز ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 9):

) وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك(و) يقول الآخر (تزوجت، و) ينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال…….

ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر نعم يصح الحط كزيادة قبلتها في المجلس، وأن لا يكون مضافا ولا معلقا كما سيجيء، ولا المنكوحة مجهولة، ولا يشترط العلم بمعنى الإيجاب والقبول فيما يستوي فيه الجد والهزل.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 291):

الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، أما التأكد بالدخول فمتفق عليه، والوجه فيه أن المهر قد وجب بالعقد وصار دينا في ذمته، والدخول لا يسقطه؛ لأنه استيفاء المعقود عليه، واستيفاء المعقود عليه، يقرر البدل لا أن يسقطه كما في الإجارة؛ ولأن المهر يتأكد بتسليم المبدل من غير استيفائه لما نذكر فلأن يتأكد بالتسليم مع الاستيفاء أولى.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 200):

‌وإذا ‌خلا ‌الرجل ‌بامرأته وليس هناك مانع من الوطء ثم طلقها فلها كمال المهر .

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 268):

«ومنها أن لا تكون منكوحة الغير، لقوله تعالى: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] معطوفا على قوله عز وجل: {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23] إلى قوله: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] وهن ذوات الأزواج.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

13/محرم الحرام /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب