03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کا حکم
87975طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

اگر کوئی بیوی مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، لیکن شوہر طلاق نہ دے،  پھر وہ عدالت سے خلع لے لے، عدالت کے بلانے پر شوہر دستخط کے لیے بھی نہ آئے، تو کیا یہ طلاق ہو جائے گی؟ وجوہات یہ ہیں:

  1. اُس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہو۔
  2. اُس کا شوہر کسی اور لڑکی سے بات کرتا ہو یا اُسے پسند کرتا ہو۔
  3. وہ اپنی بیوی کا خیال نہیں رکھتا ہو ،مگر نان و نفقہ دیتا ہو۔
  4. شوہر کے گھر والے اُس کی بیوی کو تنگ کرتے ہوں اور شوہر اپنے گھر والوں کو کچھ نہ کہتا ہو۔
  5. شوہر بہت غصہ کرتا ہو بات بات پر۔
  6. بہت زیادہ شکی مزاج ہو اور اپنی بیوی پر بات بات پر شک کرتا ہو۔

کیا اس صورتِ حال میں عدالت سے طلاق ہو جائے گی؟ اگر نہیں، تو پھر کیسے ہو گی؟

کیا مندرجہ بالا وجوہات پر گواہ ہونا ضروری ہے؟اس بات کی بھی رہنمائی فرما دیں کہ کن کن وجوہات کی بنا پر عدالت سے خلع لی جا سکتی ہے؟اس کا جواب تحریری دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

            خلع مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین ) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ لہذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے ، شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یکطرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی  بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے، جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسح نکاح کا اختیار جج کو صرف غیر معمولی صورتوں میں حاصل ہوتا ہے،مثلاً :

  1. شوہر نامرد ہو۔
  2. متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہو اور نہ طلاق دیتا ہو۔
  3. مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔
  4. غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو، لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو اور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہے۔
  5. ایسا پاگل ہو یا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

            ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، نیز فسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے، اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعانافذ نہیں ہوتا۔

             صورتِ سوال  میں مذکورہ وجوہ نکاح ختم کرنے کے لیے شرعاً معتبر نہیں ہیں،یہ مسائل معمولی نوعیت کے ہیں ،کوئی بھی گھر ان سے خالی نہیں۔

            نکاح کا رشتہ کوئی کھیل نہیں ہے کہ معمولی باتوں پر اس کو ختم کیا  جاسکے،لہذا عدالت کی طرف سے  مذکورہ معاملے میں جاری کیا گیا فسخ ِنکاح  کا فیصلہ قطعی غیر معتبر ہے،نکاح بدستور قائم ہے۔

حوالہ جات

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول. (بدائع الصنائع: (315/4

 (قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. (المبسوط للسرخسي :6/ 173)

(التبویب،فتویٰ نمبر:87257)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

13/محرم الحرام1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب