| 87965 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
ایک لڑکے اور لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا۔ سوا مہینہ کے بعد جب ان کے گھر والوں کو معلوم ہوا تو لڑکی کے گھر والوں نے اعتراض کیا۔انہیں وہ رشتہ قبول نہیں تھا ، انہوں نے رشتہ ختم کروانے کے لیے زبردستی لڑکے سے طلاق کے الفاظ تین بار کہلوائے ۔سوا مہینے میں دونوں آپس میں ملتے رہے، بعض اوقات تنہائی بھی ہوئی، لیکن ان کے درمیان مکمل ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا۔ ہاں تھوڑا بہت ریلیشن تھا اس اعتبار سے کہ نکاح ہوگیا ہے۔ لڑکی کی ماں کے بقول انہیں طلا ق کی بد نامی قبول تھی ،مگر یہ رشتہ نہیں ؛کیونکہ انہیں لڑکے سے بہت سے اعتراضات تھے۔ لڑکے کے بہت لڑکیوں سے تعلقات رہ چکے تھے،اس کا کریکٹر پسند نہیں تھا ۔لڑکا اپنے والد کے پاس ملازمت کرتا تھا، بحیثیت نوکرپانچ ہزار تنخواہ پر ۔اسے کوئی ہنر نہیں آتا تھا ،کہنے کو مالک تھا ،مگر کوئی اختیار نہیں تھا ۔ایک ذمہ دار شخص نہیں تھا ۔ لڑکی گریجویٹ اور اچھا پڑھی ہوئی تھی ،مگر لڑکے نے بس بارہ پڑھی ہوئی تھی، وہ بھی کئی بار فیل ہوکر جوکہ لڑکی کے گھر والوں کے اعتبار سے اچھا نہیں تھا ۔ ان کے نکاح کا حق مہر پانچ ہزار روپے تھا جو ان کے خاندان کے حساب سے بہت کم تھا ۔ طلاق کے بعد لڑکی کے ماں باپ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ شاید نکاح نہ ہوا ہو ،لیکن ان کو یہ فتویٰ ملا کہ نکاح ہوگیا تھا ۔ کچھ عرصہ بعد لڑکی نے ایک مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایک قول یہ بھی ہے کہ غیر کفو میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ۔گنجائش کا سوچ کر لڑکا اور لڑکی نے گھر والوں کو منایا اور دوبارہ نکاح کرلیا۔آج ان کے دو بچے ہیں ،مگر لڑکی کو لگتا ہے کہ اس نے پوری صورتحال بتاکر فتویٰ نہیں لیا اور کیا وہ حق پر ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں جب لڑکے نے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہہ دیئے تو لڑکی حرمت مغلظہ کے ساتھ لڑکے پر حرام ہوچکی تھی،چاہے لڑکی کے گھر والوں نے زبردستی کرکے ہی طلاق کے الفاظ کہلوائے ہوں۔اس کے بعد لڑکی کا اس لڑکے سے نکاح جائز نہیں تھا۔اس لیے اب فوراً علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے اور کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں۔دوبارہ اکٹھے رہنے پر لڑکا اور لڑکی دونوں سچے دل سے اللہ کے حضور توبہ واستغفار کریں۔تاہم اس دوران جو بچے پیدا ہوئے ہیں ،ان کا نسب اس لڑکے سے ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ مسئولہ صورت میں لڑکے کا لڑکی کے کفو نہ ہونا واضح نہیں،اس لیے یہ نکاح کفو میں ہوا ہے۔
حوالہ جات
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحهاقبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة(بدائع الصنائع:3/187)
ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم: الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه، وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون، علي أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن، ولكنه يأثم، وقالوا: من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة.(عمدۃ القاری:20/233)
ولو طلقها ثلاثا، ثم تزوجها قبل أن تنكح زوجا غيره فجاءت منه بولد ولا يعلمان بفساد النكاح فالنسب ثابت، وإن كانا يعلمان بفساد النكاح يثبت النسب أيضا عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية: 1/ 540)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


