03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پلاٹ کے تبادلے کی صورت میں دکانوں کی ملکیت کا حکم
87967خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

سن1998 میں آدم اور عمر دونوں ایک بستی میں دو عدد 20 مرلہ زمین پر مشتمل پلاٹ کے مالک تھے ۔ دونوں نے مکان کی تعمیر کے وقت اپنے پلاٹ میں سے ایک ہی ترتیب و پیمائش کے حساب سے 18 مرلہ کے  مکان اور دو مرلے کی دو عدد دکانیں مختص کیں۔  آدم نے اپنے حصہ کا مکمل 20 مرلہ حسن کو فروخت کر ڈالا  ۔بقول حسن کے آدم کا حصہ خریدتے وقت مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ آدم کی خود مختص کی ہوئی دو دکانیں بھی اس  پلاٹ کا حصہ ہیں ۔ آدم اپنا حصہ حسن کو بیچ کر دوسرے صوبے شفٹ ہو گیا۔ حسن اور عمر کے مابین 2001 میں  اپنے اپنے حصے کے پلاٹ کا  آپسی تبادلہ ہوا بذریعہ غلام رسول ۔ عمر کا حصہ حسن کے پاس اور حسن کا حصہ عمر کے پاس چلا گیا ۔2025 میں حسن نے دعویٰ کیا کہ میرے متبادل پلاٹ کی دو دکانیں مجھے میری لا علمی کی وجہ سے نہیں دی گئی مجھے آدم کے خریدے ہوئے پلاٹ کا مکمل حصہ نہیں ملا ۔عمر نے جوابا کہا میں نے تبادلہ کروانے والے غلام رسول کو کہا تھا کہ میں پلاٹ کا تبادلہ اس شرط پر کروں گا کہ میں حسن کے پلاٹ والی دکانیں اضافی رکھوں گا ۔حسن حلفاکہتا ہے کہ غلام رسول نے میرے ساتھ تبادلے کے وقت دو دکانوں کی شرط نہیں رکھی تھی اور نہ ہی میرے علم میں تھا کہ میرے آدم سے خریدے ہوئے  حصہ کے پلاٹ کی دو عدد دکانیں بھی ہیں ۔کیا کہتے ہیں علماء حضرات کہ ان دو دکانوں کا شرعی مالک کون ہے؟

تنقیح: سائل نے بذریعہ ای میل بتایا کہ حسن نے غلام رسول کو وکیل نہیں بنایا تھا  ۔معاہدہ حسن اور غلام رسول کے درمیان ہوا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب آدم نے اپنا مکمل 20 مرلہ پلاٹ حسن کو فروخت کیا تو اس میں شامل دونوں دکانیں بھی حسن کی ملکیت میں داخل ہو گئیں، خواہ اسے ان کا علم ہو یا نہ ہو کیوں کہ پہلی بیع میں آدم نے مطلقا 20 مرلہ حسن کو فروخت کیا تھا اور کسی چیز کا استثناء نہیں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2001 میں حسن اور عمر کے درمیان جو تبادلہ غلام رسول کے ذریعے ہوا،چونکہ  غلام رسول بطور وکیل عمر کی طرف سے تبادلہ کر رہا تھا اور عمر نے اگر کوئی اضافی شرط رکھی تھی تو غلام رسول پر لازم تھا کہ وہ اس پر عمل کرتا بصورت دیگر اس کا عمل نافذ نہیں ہوتا۔ اب غلام رسول پر لازم ہے کہ وہ دو گواہ پیش کرے کہ اس نے یہ شرط معاہدہ کرتے وقت لگائی تھی۔ اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو حسن سے کہا جائے گا کہ وہ حلف اٹھائے  کہ معاہدے میں یہ شرط نہیں لگائی گئی تھی۔ اس کے بعد یہ معاملہ ختم ہو جائے گا اور حسن اور عمر اپنے پرانے حصوں کے دوبارہ مالک بن جائیں گے،لہذا صورت مسئولہ میں حسن اپنے پرانے حصے بشمول  دو دکانوں کے مالک بن جائے گا اور عمر اپنے پرانے حصے کا ۔نیز  اگر دونوں فریقین باہمی رضامندی سے نئے سرے سےدوبارہ عقد کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (3/ 574):

‌التوكيل ‌بالشراء ‌إذا ‌كان ‌مقيدا ‌يراعى ‌فيه ‌القيد ‌إجماعا، سواء كان القيد راجعا إلى المشترى أو إلى الثمن، حتى إنه إذا خالف يلزمه الشراء إلا أنه إذا كان خلافا إلى خير فيلزم الموكل...‌الوكيل ‌إذا ‌خالف ‌من ‌حيث ‌الجنس ‌لا ‌ينفذ ‌على ‌الآمر، وإن كان المأتي به أنفع من المأمور به كما إذا أمره أن يبيع عبده بألف درهم فباعه بألف دينار، وإن كان من حيث الوصف أو القدر إن كان المأتي أنفع ينفذ على الآمر، كما إذا أمره أن يبيع عبده بألف درهم فباعه بألف وخمسمائة، وإن كان أضر لا ينفذ على الآمر، كما إذا أمره أن يبيع عبده بألف درهم فباعه بتسعمائة درهم هكذا في المحيط

مجلة الأحكام العدلية (ص291):

المادة (1495) إذا عين الموكل الثمن فليس للوكيل بيعه بأنقص مما عينه الموكل ، فإذا باع ينعقد البيع موقوفا على إجازة الموكل

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 509):

الضابط الأول، كون القيد الذي ذكره الموكل ذا فائدة له على كل حال وفي هذا الحال يلزم الوكيل مراعاة القيد المذكور سواء نهى الموكل وكيله عن السير على خلاف القيد المذكور أم لم ينهه

سنن الترمذي (3/ 176):

حدثنا علي بن حجر، قال: أخبرنا علي بن مسهر وغيره، عن محمد بن عبيد الله، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: "البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه"   

  ارسلان نصیر

  دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

 /13   محرم/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب