03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کے پلاٹ پر بیٹےکااپنی بیوی سےزیورقرض لیکر تعمیر کرنا
87964میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

 کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری والدہ نے 1992 میں ایک مکان بنوایا جو اُن کے نام پر تھا، اور وہ مکان اس وقت صرف گراؤنڈ فلور پر مشتمل تھا۔ ہماری فیملی میں والد، والدہ، میں (بیٹا)، اور ایک بہن شامل تھے۔ میری بہن اب شادی شدہ ہے۔

اب والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور ورثا میں صرف تین افراد ہیں:

  1. شوہر (میرے والد)
  2. ایک بیٹا (میں)
  3. ایک بیٹی (میری بہن)

2010 میں میں نے اپنی بیوی کا سونا بیچ کر مکان کی پہلی اور دوسری منزل تعمیر کروائی، کیونکہ میری آمدنی محدود تھی اور تعمیر کا مکمل انحصار اسی زیور پر تھا۔ ہم دونوں نے اس وقت یہ طے کیا تھا کہ جب مکان فروخت ہو گا تو میں بیوی کو وہ زیور یا اس کی قیمت واپس کروں گا، اور اس وعدے کے گواہ میرے چچا، تایا (مرحوم) اور دیگر قریبی رشتہ دار تھے۔ تعمیر کے بعد ہم نے گراؤنڈ فلور کرائے پر دے کر پہلی منزل پر والد اور دوسری منزل پر میں اور میری فیملی رہائش پذیر رہے۔ بعد ازاں گراؤنڈ فلور کی حالت خراب ہو گئی، جس کی مرمت اور کاغذی کارروائی پر میں نے اپنی ذاتی رقم خرچ کی۔ اب مکان فروخت ہو چکا ہے اور اس کی بہتر قیمت میں اوپر کی تعمیر، جو بیوی کے زیور سے ممکن ہوئی، کا نمایاں کردار رہا ہے۔

اب سوالات یہ ہے کہ

١۔ کیا میری بیوی کو اس مکان سے کوئی حق یا رقم واپس ملنی چاہیے کیونکہ اوپر کی تعمیر اس کی ملکیت کے سونے سے ہوئی تھی، جس کے گواہ بھی موجود ہیں اورسونالوٹانے کی بات بھی ان سے ہوئی تھی؟

۲۔کیا میرے کاغذی و مرمتی اخراجات کی بھی کوئی گنجائش ہے شرعی یا اخلاقی طور پر؟

۳۔شرعی لحاظ سے میری والدہ کے اس مکان (جو اب فروخت ہو چکا ہے) کی تقسیم کس طرح ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔ اگر واقعۃ یہ زیور آپ نے بیوی سے تعمیر کے لیے قرض لیا تھا، جیسے کہ آپ کے بقول اس کے گواہ بھی موجود ہیں، اور اسے زیور/قیمت واپس کیے جانے کے وعدے سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے، تو پھر تقسیم سے پہلے مکان کی مذکورہ قیمت سے اس زیور کی موجودہ قیمت بیوی کو واپس کرنا ہوگی، اور پھر باقی رقم کی تقسیم ورثہ میں ہوگی۔

۲۔ گراؤنڈ فلور پر کیے گئے یہ اخراجات اگر آپ نے واپسی کی نیت سے کیے تھے، اور ورثہ بھی اس کو مانتے ہیں یا اس پر گواہ موجود ہیں، تو پھر یہ اخراجات آپ تقسیم سے پہلے وصول کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ نے یہ اخراجات بطورِ تعاون کیے تھے اور واپسی کا ارادہ نہیں تھا، یا ورثہ اس بات کو نہیں مانتے اور آپ کے پاس کوئی گواہ بھی نہیں ہے، تو پھر شرعاً یہ اخراجات آپ نہیں لے سکتے۔

البتہ شرعی طور پراگرآپ چاہیں تودیگر ورثاء سےقسم لےسکتےہیں کہ انہیں ان اخراجات( بقصدِ واپسی) کا علم نہیں اور نہ ہی میت نے انہیں بتایا ہے۔ اگر ورثاء اس بات پر قسم کھا لیتے ہیں توآپ کا دعویٰ ساقط ہو جائے گااوراگرانکارکرلیتے ہیں توپھربھی آپ یہ اخراجات مکان کی قیمت سےوصول کرسکتے ہیں۔

۳۔ شرعی لحاظ سے مذکورہ مکان کی تقسیم کا طریقہ درج ذیل ہے:

مکان کی قیمت سے سب سے پہلے بیوی کے زیورات کی موجودہ قیمت اور گراؤنڈ فلور پر کیے گئے آپ کے اخراجات (ثبوت کی موجودگی کی صورت میں) منہا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد جو قیمت بچے گی اسے مرحومہ کے دیگر تمام ترکہ سے ملاکراس میں سے، سب سے پہلے قرض (اگر مرحومہ پر ہو) ادا کیا جائے گا، پھرجائز وصیت (اگر مرحومہ نے کی ہو) تہائی مال تک پوری کی جائے گی۔ اس کے بعد بچ جانے والے ترکہ میں شرعی تقسیم یوں ہوگی: مرحومہ کے شوہر کو ٪25، بیٹے کو٪50 اور بیٹی کو٪25 حصہ دیا جائے گا۔

چونکہ شوہرزندہ ہے،لہذا مرحومہ کےکفن دفن کے اخرجات ان پر ہونگے،لہذا ترکہ سے وہ منہانہیں ہونگے۔

حوالہ جات

الفتاوی الھندیۃ: (407/3، ط: دار الفکر)

ولو أن رجلا قدم رجلا إلى القاضي وقال: إن أبا هذا قد مات ولي عليه ألف درهم دين فإنه ينبغي للقاضي أن يسأل المدعى عليه هل مات أبوه؟ ولا يأمره بجواب دعوى المدعي أولا فبعد ذلك المسألة على وجهين: إما أن أقر الابن فقال: نعم مات أبي، أو أنكر موت الأب فإن أقر وقال: نعم مات أبي؛ سأله القاضي عن دعوى الرجل على أبيه فإن أقر له بالدين على أبيه يستوفى الدين من نصيبه، ولو أنكر فأقام المدعي بينة على ذلك قبلت بينته وقضي بالدين ويستوفى الدين من جميع التركة لا من نصيب هذا الوارث خاصة.۔۔۔۔وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه.فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه.

الدر المختار: (553/5، ط: دار الفکر)

(كذا إذا ادعى دينا أو عينا على وارث إذا علم القاضي كونه ميراثا أو أقر به المدعي أو برهن الخصم عليه) فيحلف على العلم.

وفی ’’شرح المجلۃ‘‘:

لیس لأحد أن یأخذ مال غیرہ بلا سبب شرعي۔ (شرح المجلۃ ۱؍۶۱ رقم المادۃ: ۹۷)

وفی السنن الکبری للبیھقي:

عن ابن أبي ملیکۃ قال: کنت قاضیا لابن الزبیر علی الطائف، فذکر قصۃ المرأتین، قال: فکتبت إلی ابن عباسؓ، فکتب ابن عباس رضی اﷲ عنہما إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو یعطی الناس بدعواهم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم، ولکن البینۃ علی المدعي، والیمین علی من أنکر۔ (السنن الکبری للبیھقي، کتاب الدعوی والبینات، باب البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ، مکتبہ دارالفکر بیروت ۱۵/ ۳۹۳، رقم: ۲۱۸۰۵)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 81)

(سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.

الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 219)كل من بنى في أرض غيره بأمره ة فالبناء لمالكها.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (3 / 189)

إذا بنى الباني بإذن شريكه للشركة أو بإذن شريكه على الإطلاق فهو مشترك وللشریك الباني الرجوع على شريكه بحصة من مصرف البناء . انظر المادة ( 139 ) . 3 - ( بدون إذن شريكه ) , هذا التعبير ليس احترازيا بل اتفاقي لأنه إذا بنى أحد الشركاء لنفسه بإذن شريكه فإذا كان بلا بدل فهو عارية وللمعير في أي وقت أراد الرجوع عن عاريته توفيقا للمادة ( 837 ) وأن يطلب قلع البناء , وإذا كان هذا الإذن مقابل بدل معلوم فهو إجارة وتجري في ذلك الأحكام المبينة في شرح المادة ( 531 ) . أما إذا بنى للشركة بدون إذن شريكه فيكون البناء مشتركا والباني متبرعا بمصرفه على البناء وليس له الرجوع على شريكه بحصته من المصرف۔

(رد المحتار) (6 / 747):

 (قوله عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ

فی الھندیۃ:

یجب الکفن علی الزوج وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویِٰ(کتاب الصلاۃ،  الباب الحادي والعشرون في الجنائز، 1/ 141، ط: رشيدية)

وفی الشامية:

واختلف في الزوج، والفتویٰ عی وجوب کفنہا علیه عند الثاني، وإن ترکت مالاً (الدر المختار) …  أنه یلزمه کفنہا وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰ.(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 206، ط: سعيد)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 13/01/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب