| 88088 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اگر کوئی سرکاری ڈیپارٹمنٹ جابز کا اعلان نہیں کرتا بلکہ وزیر اور ڈائریکٹرز وغیرہ ان پوسٹوں کو بیچ رہے ہوں، یعنی کوئی اعلان نہیں کیا جاتا بلکہ صرف متعلقہ لوگ جنہیں ان جابز کا علم ہوتا ہے، انہیں بتایا جاتا ہے، اور اگر وہ اس پوسٹ کے بقدر، اہل اور تعلیم یافتہ بھی ہوں، تو کیا ایسی نوکری کو پیسے دے کر خریدنا جائز ہے؟ خاص طور پر جب نہ کسی کا مقابلہ ہو اور نہ ہی کسی کا حق مارا گیا ہو، اور بندہ اس کا اہل بھی ہو؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پاکستانی قوانین اور عدالتی فیصلوں کے مطابق سرکاری ملازمتوں کا باقاعدہ اشتہار دینا قانونی طور پر ضروری ہے، تاکہ ہر شہری کو مساوی مواقع، میرٹ اور شفاف مقابلے کی بنیاد پر روزگار حاصل ہو۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 18 اور 25 کے تحت ہر شہری کو پیشہ اختیار کرنے اور قانون کی نظر میں برابر ہونے کا حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں، بالخصوصHuman Rights Case No. 104/1992 میں، بغیر اشتہار تقرریوں کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایسی تقرریاں اکثر عدالتوں میں چیلنج کی گئی ہیں اور کالعدم قرار دی گئی ہیں۔
لہٰذا اگر کسی سرکاری ادارے میں ملازمتوں کا باضابطہ اعلان نہ کیا جائے اور وزراء یا افسران ان اسامیوں کو رقم کے عوض مخصوص افراد کو فراہم کریں، تو چاہے وہ امیدوار تعلیم یافتہ اور اہل ہی کیوں نہ ہو، صرف پیسے دے کر نوکری حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں۔ یہ عمل قانون شکنی([1])کے ساتھ ساتھ رشوت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ یہ رقم کسی ظلم سے بچنے یا کسی ثابت شدہ حق کے حصول کے لیے نہیں دی جاتی بلکہ ایک منفعت حاصل کرنے کے لیے دی جاتی ہے، جو کہ فقہی اصولوں کے خلاف ہے۔
شریعت کے مطابق صرف اُس صورت میں رشوت کا جواز ہوتا ہے جب کوئی شخص ظلم سے بچنے یا اپنے جائز حق کے
حصول کے لیے مجبور ہو۔ نبی کریم ﷺ نے رشوت لینے،دینے اور اس کے درمیان واسطہ بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔یہ عمل نہ صرف نظامِ انصاف،اہلیت اور شفافیت کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی بدعنوانی اور ناانصافی کو فروغ دیتا ہے۔لہٰذا رشوت دے کر نوکری حاصل کرنا شرعاً حرام ہے، اور دوسروں کے غلط عمل کو بنیاد بنا کر خود ایسا کرنا ہرگز جائز نہیں۔
البتہ اگر کوئی شخص واقعی سخت مجبوری کا شکار ہو، مثلاً وہ اپنے کھانے پینے کی ضروریات کےلئے سخت پریشان ہواور کوشش کے باوجود کہیں اور ملازمت وہ حاصل نہ کر پا رہا ہو، اور مذکورہ ملازمت بھی صرف رشوت دینے سے ہی مل رہی ہو، جبکہ اس امیدوار کے اندر اس ملازمت کے لیے مطلوبہ قابلیت بھی موجود ہو، تو ایسی شدید مجبوری کی حالت میں اس کے لیے رشوت دے کر یہ ملازمت حاصل کرنا جائز ہوگا۔ تاہم لینے والے کے لیے رشوت لینا ہر حال میں ناجائز اور حرام ہی رہے گا۔
﴿[1] ﴾ ١۔ پاکستان پینل کوڈ (PPC) – سیکشن 161–163، ۲۔ Prevention of Corruption Act, 1947 سیکشن 5 (Criminal Misconduct)
حوالہ جات
عن عبدالله بن عمرو قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشى. (سنن أبي داؤ: 148/2)
بدائع الصنائع :
"لأنّ طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض، فكيف فيما هو طاعة؟"(كتاب السير، فصل فى أحكام البغاة، ج:9، ص :453، ط:دارالحديث. القاهرة)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 424)
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ، ومالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوۃ في حق الدافع.
وأما إذا دفع الرشوة لدفع الضرر عن نفسه فجائز للدافع (فتح القدير:409/8)
المفاسد أولی من جلب المصالح، فإذا تعارضت مفسدۃ ومصلحۃ قدم دفع المفسد غالبا۔ (الأشباہ: ۱۴۷)
وفی اعلاء السنن:
الرشوۃ.... ما یعطی لإبطال حق اولإحقاق حق لیتوصل بہ الی حق اولیدفع بہ عن نفسہ ظلمًا فلا بأس بہ.(ج۱۵، ص۴۰)
فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 409)
لا يقال: لا نسلم جواز دفع الرشوة لدفع الظلم؛ لأن قول النبي - صلى الله عليه وسلم -: «لعن الله الراشي والمرتشي» عام. لأنا نقول: هذا الحديث محمول على ما إذا كان على صاحب الحق ضرر محض في أمر غير مشروع، كما إذا دفع الرشوة حتى أخرج الوالي أحد الورثة عن الإرث، وأما إذا دفع الرشوة لدفع الضرر عن نفسه فجائز للدافع، انتهى. واعترض بعض الفضلاء على الجواب؛ حيث قال فيه: إن المعتبر هو عموم اللفظ وما الدليل على أنه محمول على ما ذكر غير مجرى على عمومه، انتهى.
أقول: الدليل عليه ما ورد من النصوص في أن الضرورات تبيح المحظورات، منها قوله تعالى: {وما جعل عليكم في الدين من حرج} [الحج: 78] ولا شك أن في دفع الضرر عن نفسه دفع الحرج.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 362)
(قوله: أخذ القضاء برشوة) بتثليث الراء قاموس وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد، جمعها رشا مثل سدرة وسدر، والضم لغة وجمعها رشا بالضم اهـ وفيه البرطيل بكسر الباء الرشوة وفتح الباء عامي.وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط وحيلة حلها أن يستأجره يوما إلى الليل أو يومين فتصير منافعه مملوكة ثم يستعمله في الذهاب إلى السلطان للأمر الفلاني، وفي الأقضية قسم الهدية وجعل هذا من أقسامها فقال: حلال من الجانبين كالإهداء للتودد وحرام منهما كالإهداء ليعينه على الظلم وحرام على الآخذ فقط، وهو أن يهدى ليكف عنه الظلم والحيلة أن يستأجره إلخ قال: أي في الأقضية هذا إذا كان فيه شرط أما إذا كان بلا شرط لكن يعلم يقينا أنه إنما يهدي ليعينه عند السلطان فمشايخنا على أنه لا بأس به، ولو قضى حاجته بلا شرط ولا طمع فأهدى إليه بعد ذلك فهو حلال لا بأس به وما نقل عن ابن مسعود من كراهته فورع
الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب، اهـ ما في الفتح ملخصا. وفي القنية الرشوة يجب ردها ولا تملك وفيها دفع للقاضي أو لغيره سحتا لإصلاح المهم فأصلح ثم ندم يرد ما دفع إليه اهـ، وتمام الكلام عليها في البحر ويأتي الكلام على الهدية للقاضي والمفتي والعمال.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/01/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


