| 88019 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
اشرف کی عادت ہے کہ جب بھی کسی بولنے والے کی بات سنتا ہے، تو" ہاں" بولتا ہے، اشرف کو عمیر نے کہا:" کیا تم عابدہ کو طلاق دیتے ہو؟" اشرف کو ٹریک کے شور کی وجہ سے آواز سنائی نہ دی، لیکن اشرف نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اشرف عمیر کی بات سن رہا ہے لفظ" ہاں "بولا ۔کیا اشرف کی بیوی عابدہ مطلقہ بن گئی، جبکہ اشرف کی طلاق کی نیت نہ تھی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں "ہاں" کہنے والے شخص (اشرف) نے نہ تو عمیر کے یہ الفاظ "کیا تم عابدہ کو طلاق دیتے ہو؟" سنے اور نہ ہی اس کی طلاق دینے کی نیت تھی، لہٰذا اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 402):
امرأة قالت لزوجها: تريد أن أطلق نفسي؟ فقال الزوج :نعم ،فقالت المرأة :طلقت ،إن كان الزوج نوى تفويض الطلاق إليها تطلق واحدة، وإن عنى بذلك طلقي نفسك إن استطعت لا تطلق.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (1/ 436):
ولو قالت: طلقني فقال: نعم. لا، وإن نوى، قيل له: ألست طلقت امرأتك؟ قال: بلى، طلقت لأنه جواب الاستفهام بالإثبات، ولو قال: نعم. لا، لأنه جواب الاستفهام بالنفي، كأنه قال: نعم ما طلقت (انتهى).
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
14/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


