03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“تجھےآخری وارننگ ہے” سے طلاق کاحکم
88086طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب بیوی کا شوہر سے ایک چیز کے لیے اصرار کرتے وقت ، شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ تجھے آخری وارننگ ہے اور مقصود اس سے محض ڈرا کر یا دھمکا کر خاموش کروانا ہو.اس کاکیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 یہ  الفاظ محض دھمکی کے  ہیں، طلاق کے الفاظ نہیں، لہٰذاان سے  طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

حوالہ جات

وفی الشامیة(3/230):

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي".  

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

16/ محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب