| 88086 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
مفتی صاحب بیوی کا شوہر سے ایک چیز کے لیے اصرار کرتے وقت ، شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ تجھے آخری وارننگ ہے اور مقصود اس سے محض ڈرا کر یا دھمکا کر خاموش کروانا ہو.اس کاکیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ الفاظ محض دھمکی کے ہیں، طلاق کے الفاظ نہیں، لہٰذاان سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
حوالہ جات
وفی الشامیة(3/230):
"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
16/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


