| 88036 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
چار رکعت والی نماز میں جب آدمی امام کے پیچھے کھڑا ہو تو چونکہ دوسری رکعت میں التحیات پڑھنا واجب ہے ،لیکن اگر امام جلدی کھڑا ہو جائے یعنی پیچھے مقتدی نے ابھی تک اپنی التحیات ، اشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ ، تک مکمل نہ کی ہو تو کیا کرنا چاہیے؟ فوراً امام کے ساتھ کھڑا ہو جائے یا پھر پہلے اپنی التحیات ، وَ رَسُولُہ ، تک مکمل کرے اور اُس کے بعد کھڑا ہو ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
التحیات مکمل پڑھنے سے پہلے ہی امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے تو مقتدی پہلے التحیات پڑھ لے،اس کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو، اس کے لیے التحیات چھوڑنا درست نہیں ہے، البتہ اگر کوئی التحیات چھوڑ کر کھڑا ہوگیا تو اگرچہ اس کا واجب چھوٹ گیا، لیکن امام کی اقتدا میں ہونے کی وجہ سے اس کی نماز ہوجائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 496):
" (بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لايتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز؛ ولو سلم والمؤتم في أدعية التشهد تابعه؛ لأنه سنة والناس عنه غافلون.
(قوله: فإنه لايتابعه إلخ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلاً عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه اهـ ولله الحمد".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
16/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


