03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقتدی کے تکمیل تشہد سے پہلے امام کھڑا ہوجائےتو کیا حکم ہے؟
88036نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

چار رکعت والی نماز میں جب آدمی امام کے پیچھے کھڑا ہو تو چونکہ دوسری رکعت میں  التحیات پڑھنا واجب ہے ،لیکن اگر امام جلدی کھڑا ہو جائے یعنی پیچھے مقتدی نے ابھی تک اپنی التحیات ، اشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ ، تک مکمل نہ کی ہو تو  کیا کرنا چاہیے؟ فوراً امام کے ساتھ کھڑا ہو جائے یا پھر پہلے اپنی التحیات  ،  وَ رَسُولُہ  ، تک مکمل کرے  اور اُس کے بعد کھڑا ہو ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

التحیات مکمل پڑھنے سے پہلے ہی امام تیسری رکعت کے لیے  کھڑا ہوجائے تو مقتدی پہلے  التحیات پڑھ  لے،اس کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو، اس کے لیے التحیات چھوڑنا درست نہیں ہے، البتہ اگر کوئی التحیات چھوڑ کر کھڑا ہوگیا تو اگرچہ اس کا واجب چھوٹ گیا،  لیکن امام کی اقتدا میں ہونے کی وجہ سے اس کی نماز ہوجائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 496):

" (بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لايتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز؛ ولو سلم والمؤتم في أدعية التشهد تابعه؛ لأنه سنة والناس عنه غافلون.

(قوله: فإنه لايتابعه إلخ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلاً عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه اهـ ولله الحمد".

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

16/ محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب