| 88134 | حج کے احکام ومسائل | جنایات حج کا بیان |
سوال
میرا نام عبد الوہاب ہے اور میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں مقیم ہوں۔ میں حج قران کی نیت سے ریاض سے جدہ کا سفر کر رہا تھا۔ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے میں نے احرام کی
چادریں پہن لی تھیں اور دل میں نیت بھی تھی۔ ساتھ ہی ایک یا دو مرتبہ تلبیہ بھی پڑھا تھا۔ لیکن میرا ذہن یہ تھا کہ جب جہاز کے کپتان میقات کے قریب پہنچنے کا اعلان کرےگا تب میں زبان سے نیت اور تلبیہ مکمل طور پر پڑھوں گا۔ مگر کپتان نے میقات کا اعلان نہیں کیا اور جہاز میقات عبور کر گیا۔ اس کے بعد میں نے زبان سے تلبیہ پڑھا۔ میری ایک وضاحت یہ بھی ہے کہ میں نے شروع میں جو تلبیہ پڑھی تھی وہ حج کی نیت سے نہیں پڑھی تھی بلکہ عمومی طور پر پڑھی تھی۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ براہ کرم مجھے شرعی
نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائیں کہ کیا میرے اوپر دم یعنی قربانی واجب ہو گئی ہے ؟ اگر واجب ہوتو اس کی مقدار کتنی ہے؟ اور اس مسئلے کا حل کیا ہے تاکہ میرا حج صحیح ہو جائے؟ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے اور آپ کے علم میں برکت دے۔ میں آپ کے جواب کا منتظررہوں گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ نے دل میں حج کی نیت کرلی تھی، لیکن اس کے بعد تلبیہ کے جو کلمات آپ نے پڑھے تھے وہ حج کے احرام کی نیت سے نہیں پڑھے تھے، بلکہ ویسے ہی زبان سے اداکیےتھے،جبکہ تلبیہ میں احرام کی نیت سے پڑھنا ضروری ہے،تاکہ احرام مکمل ہوسکے،لہذا آپ نےمیقات سے گزرنے کے بعد حج کی نیت سے تلبیہ کے کلمات پڑھےہیں،اس لیے میقات سے بغیر احرام کے گزرنے کی وجہ سے آپ پر ایک دم لازم ہوگیا ہے،چونکہ
حج کے دن بھی گذر چکے ہیں اس لیے کسی قریبی میقات پر جاکر حج کی نیت سے تلبیہ کے کلمات پڑھ لینے سے
بھی دم ساقط نہیں ہوسکتاہے۔
اگرچہ حجِ قران کرنے والے پر اصولاً دو دم لازم ہوتے ہیں، لیکن وہ اگر میقات سے احرام کے بغیر گزر جائے تو اس صورت میں اس پر صرف ایک دم لازم ہوتا ہے۔
حوالہ جات
ارشاد الساري إلى مناسك ملا علي القاري: (ص: 125):
وهو الدخول في التزام حزمة ما يكون حلالاً عليه قبل التزام الإحرام بالنية والتلبية (شرائط صخته) أي صحة الإحرام (الإسلام) وتقدم عليه الكلام (والنية والذكر) والأولى أن يقول : والتلبية أو ما يقوم مقامها من الذكر (أو تقليد البدنة) أي مع السوق. وفيه: أن النية والتلبية نفس الإحرام وحقيقته، لا شرطه، بل الإحرام شرط للنسك، والنية من فرائض الإحرام، إذ لا ينعقد بدونها إجماعا وإن لبي، وكذا التلبية أو ما يقوم مقامها من فرائض الإحرام عند أصحابنا، لأنهم صرحوا أنه لا يدخل في الإحرام بمجرد النية، بل لا بد من التلبية أو ما يقوم مقامها، حتى لو نوى ولم يلب لا يصير محرماً، وكذا لو لبى ولم ينو.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 420):
واعلم بأن الروايات قد اختلفت في هذا الفصل في رواية ابن سماعة بمجرد النية، لا يصير محرماً إلا أن يلبي أو يكبر أو يذكر الله، يريد به الإحرام.ُ
كنز الدقائق: (ص: 242):
وكل شيء على المفرد به دم فعلى القارن دمان إلا أن يتجاوز الميقات غير محرم".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
18/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


