03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تم فارغ ہو سے طلاق کا حکم
88083طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرا نام فاطمہ ہے اور میرے شوہر کا نام آصف ہے وہ اٹلی میں رہتے ہیں ہم دونوں میاں بیوی کا رابطہ موبائل کے ذریعےہوتا رہتا ہے۔

واقعہ نمبر : 1

ایک دفعہ میرے شوہر سے میری بات ہورہی تھی فون کے ذریعے اور میں طنز و مزاح میں بول رہی تھی کہ جب میری مرضی ہوگی میں بال کٹوا لوں گی ، جب بچے ہوں گے، اُن کو اپنی مرضی سے پالوں گی ،یہ وہ ،انہوں نے کہا کہ اچھا واہ ہر کام اپنی مرضی سے، ساتھ وہ ہلکے نارمل طنز و غصہ میں تھے ، حالت غضب نہیں تھی نہ طلاق کی کوئی بات چل رہی تھی ،نہ ہی میری طرف سے کوئی مطالبٔہ طلاق تھا۔ میرے بار بار مرضی والے لفظ کہنے سے میرے شوہر نے مجھے کہا؛

"آپ آزاد ہو جو مرضی کرو"۔

یا " آپ کو آزادی ہے"۔

"میری طرف سے آزاد ہو آج سے"۔

ان تین جملوں میں سے کوئی ایک جملہ کہاتھا، اب نہ میرے شوہر کو پکا یاد ہے کہ کون سا جملہ تھا نہ ہی مجھے۔اگلے دن نیت معلوم کی تو انہوں نے کہا پاگل طلاق  کی نیت دور دور تک نہیں تھی۔ نیت تھی کہ اپنے کاموں میں آزادہو جو چاہے کرو۔

واقعہ نمبر: 02

واقعہ نمبر ایک کے دو ماہ بعد میری دوبارہ اپنے شوہر سے بحث و لڑائی ہوئی ۔وہ کسی کام کے لیے جا رہے تھے، میں نےکہا کہ آپ مجھے ٹائم نہیں دیتے،مجھے آج کال پہ ٹائم دو،وہ غصے میں آگئے اورانہوں نے مجھے کہا"جاؤ آج سے تم فارغ ہو میری طرف سے"یا یہ کہا کہ "جاؤ تم آج سے فارغ ہو"۔ان میں سے کون سا جملہ کہا تھا یہ ہم دونوں میاں بیوی کو یاد نہیں۔اس بات سے پہلے یا بعد میں مجھے Block بھی کیالیکن بعد میں Block کھول دیا اس وقت وہ غصے میں تھے،شدید غصے میں تھے،لیکن بعد میں نیت معلوم کی تو انہوں نے کہا کہ میری نیت تمہیں طلاق دینا نہیں تھی بلکہ تم سے جان چھڑانا تھی کہ فی الحال اس کو بند کردوں گا۔ طلاق کا میرے ذہن میں دور دور تک تھا ہی نہیں۔

واقعہ نمبر :03

واقعہ نمبر دو کے بعد جب مجھے ایک دن خیال آیا کہ لفظ "فارغ" یا لفظ "آزاد"سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہےتو میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ کسی مفتی سے معلوم کریں، میں بار بار اُن سے یہ بات کر رہی تھی اور زور دے رہی تھی کے آپ نے فلاں وقت مجھے لفظ فارغ کہا تھا ۔

اُسی ٹائم واقعہ نمبر ایک یا دو کی بات چل رہی تھی کہ آپ نے مجھے فارغ کیا تھا، یہ وہ، تو اچانک انہوں نے اپنے منہ سے کہا کہ "اب دوبارہ یہ میرے ساتھ باتیں کیں تو آپ سچ میں میری طرف سے فارغ ہو"۔(روز کی قید لگائی تھی یا نہیں یہ یاد نہیں) یا یہ کہا کہ "آپ نے بات کی تو آپ فارغ ہو"۔روزانہ کالفظ استعمال کیا یا نہیں؟ یہ نہ شوہر کویاد ہے نہ مجھے لیکن اُس کے بعد میرے رونے کی وجہ سے انہوں نے مجھے بات کرنے کی اجازت دے دی تھیاور اُس دن کے بعد کہاکہ آپ بات کر سکتی ہو،اب اجازت ہے۔ (اوپر فارغ میں "روز بات کی " کا استعمال یاد نہیں تھا)۔اُس دن کے بعدکئی دفعہ وہی بات کی تو اجازت کے بعد بھی وہ بات روز کرنے سےطلاق واقع ہوگئی؟ اگر ہوگئی تو لفظ فارغ سے؟روز وہی بات کی تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟پانچ یا چھ دن سے وہی بات چل رہی ہے۔بعد میں شوہر نے اس بات کا بھی دعوی کیا کہ تمہیں بات سے روکنے کے لئے کہا تھاکہ یہ بات کی تو فارغ۔ طلاق کی اُس وقت بھی نیت نہیں تھی اور کہا کہ فون سے فارغ کرنا مطلب تھا اُس وقت بھی میری نیت طلاق کی نہیں تھی ۔

چوتھا اورآخری واقعہ :

انہیں دنوں میرے شوہر نے بڑے پیار سے کہا کہ اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو یہ باتیں کرنا چھوڑ دو ۔ اِس وقت وہ غصہ نہیں  لیکن پھر بھی میں نے باتیں نہیں چھوڑیں تو اس معاملے میں کیا حکم ہے ؟ یہ بات پیار سے بولی تھی کہ اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو یہ باتیں چھوڑ دو ۔ آپ میرے تمام واقعات پڑھ کے بتا دیں کہ میرے اور میرے میاں کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا ہمارا نکاح باقی ہے اور کیا حکم ہے؟لیکن آج تک جب سے شادی ہوئی میرے شوہر نے کبھی بھی لفظ "طلاق " کا استعمال نہیں کیااور کہا کہ فاطمہ جب بھی میں نے فارغ یا آزاد کا لفظ استعمال کیا تو آپ کو فون سے فارغ کرنے کے لیے ڈرانے کے لیے کیا تھا۔

ہمارا نکاح برقرار رہا یا نہیں؟اگر نہیں رہا تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟اگر تین ہوئی ہیں تو دوبارہ نکاح کی کیا صورت ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"تم فارغ ہو" کا تعلق کنایہ الفاظ کی اس قسم سےہے، جس میں صرف طلاق بننے کی صلاحیت ہے اور قرینے(جیسے مذکورہ صورت میں غصہ) کی موجودگی میں ایسے الفاظ سے بغیر نیت کے بھی طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے،لہٰذا واقعہ نمبر دو میں مذکور جملہ "جاؤ آج سے تم فارغ ہو میری طرف سے"یا "جاؤ تم آج سے فارغ ہو"، سے ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے،لہٰذا سابق شوہر سےدوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے لئے نئے مہر کے ساتھ از سر نو نکاح کرنا ضروری ہے،دوبارہ نکاح کیے بغیر صرف زبانی یا عملی طور پر رجوع کافی نہیں ہوگا۔نیزدوبارہ نکاح کی صورت میں مذکورہ شوہر کے پاس آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔( تبویب:86027) 
https://almuftionline.com/2025/05/29/18230/ 

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 374)

ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية.

حمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

18.محرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب