03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مجلس نکاح میں وکیل بنائے بغیر فقط ویڈیو کال پر نکاح کاحکم
88141نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک فرد جوکہ سعودی عرب میں مقیم ہے اور اس کی فیملی بھی وہیں مقیم ہے، ان کے کچھ قریبی عزیزجوکہ 20 یا 25سال سے خاندان سے رابطے میں ہیں،انہوں نے ایک رشتہ تجویز کیا۔ لڑکی کے متعلق یہ بتایا گیا کہ وہ بااخلاق،باادب اور عزت دار ہے۔اس بنیاد پر لڑکے کے والدین نے پہلے لڑکی کے والد سے گفتگو کی، پھر خود لڑکی سے بات کی۔ لڑکی کے والد سعودی عرب میں مقیم ہیں، جبکہ لڑکی اور اس کی باقی فیملی پاکستان میں رہتی ہے۔دونوں فریقین کو ایک دوسرے کی تصاویر دکھائی گئیں۔ تصاویر دیکھنے کے بعد لڑکے نے رشتہ قبول کیا، اور لڑکی نے بھی رضامندی ظاہر کی۔نکاح کی تقریب پاکستان میں انجام پائی۔لڑکی کے والد نکاح کے لیے سعودی عرب سے پاکستان تشریف لائے۔نکاح جمعے کے دن ہونا طے پایا۔لڑکے کا ایجاب وقبول اسی دن جمعہ کی نماز سے پہلے ہوا ۔لڑکا بذریعہ ویڈیو کال براہِ ر است موجود تھا اور اس نے نکاح میں ایجاب و قبول کیا۔لڑکی کا ایجاب و قبول جمعہ کی نماز کے بعد ہو ا۔ اس وقت لڑکی کے ولی، گواہان اور لڑکے کے گواہان موجود تھے۔البتہ لڑکی کے ایجاب وقبول کے وقت لڑکا ویڈیو کال پر موجود نہیں تھا، اور ریکار ڈشدہ ویڈیو بعد میں لڑکے کو ارسال کی گئی۔لڑکے کی طرف سے کسی وکیل یا ولی کی نمائندگی نہیں کی گئی، صرف دو مرد گواہان اس مجلس میں بطور نما ئندہ شریک تھے۔نکاح کے بعد دونوں کبھی فزیکلی نہیں ملے۔صرف فون پر رابطہ رہا۔وقت گزرنے کے ساتھ کچھ معاملات پیدا ہوئے جن کی وجہ سے باہمی تعلقات میں کشیدگی آئی۔لڑکی نے ایک موقع پر طلاق یا خلع کا اظہار کیا۔لڑکے نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس نکاح کو برقرار نہیں رکھ سکتا اور علیحد گی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ (1)کیااس نکاح کی شرعی حیثیت درست ہے ؟کیا نکاح کے وقت شرعی تقاضے مکمل ہوئے؟اس تمام کیس کی روشنی میں شرعی فتوی اور مستند حوالہ جات درکار ہیں۔اگر نکاح صحیح ہے تو اس صورتحال میں جب لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی اور نہ کبھی میاں بیوی آپس میں ملے ہیں تو (2)طلاق کا شرعی طریقہ کیا ہوگا۔

تنقیح:پہلی مجلس جمعے کی نماز سے پہلے ہوئی،اس مجلس میں لڑکی کے وکیل ان کے والد صاحب موجود تھے،میں ویڈیو کال پر تھا،لیکن میرا یعنی لڑکے کا کوئی وکیل،نکاح کی مجلس میں موجود نہیں تھا،پھر دوسری مجلس جمعہ کی نماز کے بعد ہوئی اور اس مجلس میں میں ویڈیو کال پر بھی نہیں تھا اور نہ ہی میرا کوئی وکیل مجلس نکاح میں تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)نکاح منعقد ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی یا ان کے وکیل ایک ہی مجلس میں گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کریں،اگر کسی مجبوری کی بناء پرکال پر ہی نکاح کرنا ہو تو مجلس میں موجود کسی ایسے شخص کو وکیل بنادیا جائے جو ان کو جانتا ہو۔ صورتِ مسئولہ میں لڑکے اور لڑکی کے درمیان ایجاب اور قبول گواہوں کے سامنے ایک مجلس میں نہیں ہوا، اس لیے کہ نہ خود لڑکا لڑکی دونوں موجود تھے نہ دونوں کے وکیل بلکہ فقط لڑکی کے وکیل ان کے والدصاحب موجود تھے،لہٰذا یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔

(2)چونکہ نکاح منعقد نہیں ہوا اور نہ ہی لڑکا لڑکی آپس میں کبھی ملے ہیں،لہٰذا طلاق یا عدت وغیرہ کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 232)

(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح، بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول، أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس، لا ينعقد؛ لأن انعقاده عبارة عن ارتباط أحد الشطرين بالآخر، فكان القياس وجودهما في مكان واحد، إلا أن اعتبار ذلك يؤدي إلى سد باب العقود؛ فجعل المجلس جامعا للشطرين حكما مع تفرقهما حقيقة للضرورة، والضرورة تندفع عند اتحاد المجلس، فإذا اختلف تفرق الشطرين حقيقة وحكما فلا ينتظم الركن.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 21)

(قوله: وشرط حضور شاهدين) أي يشهدان على العقد، أما الشهادة على التوكيل بالنكاح فليست بشرط لصحته كما قدمناه عن البحر، وإنما فائدتها الإثبات عند جحود التوكيل. وفي البحر قيدنا الإشهاد بأنه خاص بالنكاح لقول الإسبيجابي: وأما سائر العقود فتنفذ بغير شهود ولكن الإشهاد عليه مستحب علية. اهـ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 14)

ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة.

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 14)

(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا؛ وأما الفور فليس من شرطه؛ ولو عقدا وهما يمشيان أو يسيران على الدابة لا يجوز، وإن كان على سفينة سائرة جاز. اهـ. أي؛ لأن السفينة في حكم مكان واحد.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

19.محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب