| 88142 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سائل نے ایک عالم دین کی بیٹی سے شادی کی، جو کہ خود بھی عالمہ ہے، اور اس سے سائل کے تین بچے بھی ہیں، اس شادی کو 12 سال کا عرصہ گزر چکا ہے،سائل نے کچھ وجوہات کی بناء پر دوسری شادی کی، جو کہ پہلی بیوی کے علم میں نہیں تھی، جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بڑے بھائی کے ذریعے کچھ شرائط پیش کیں، جن کو سائل نے جرگہ کے سامنے قبول کیا، جرگہ نے فریقین کو پابند کیا کہ فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔اس بات پر فریقین رضامند ہوگئے،اس کے کچھ عرصہ بعد عیدالاضحی کے موقع پر سائل کی پہلی بیوی والدین سے ملنے گئی،عید کے تیسرے دن سائل کو کال کے ذریعہ بتایا کہ میرے والد مجھے اور بچوں کو گھر واپس آنے کی اجازت نہیں دے رہے ،ان کی طرف سے نئی شرائط یہ ہیں:۔
شرط نمبر 1:دوسری بیوی کو فوری طلاق دے۔ اور آئندہ کیلئے کلما کی طلاق کی قسم اٹھائے، یا دوسری بیوی کو تین ماہ کے اندر طلاق دے۔
شرط نمبر 2:آدھا مکان پہلی بیوی کے نام پر ہے، بقیہ آدھا بھی پہلی بیوی یا اس کے بچوں کے نام کیاجائے۔
شرط نمبر 3:بیوی، بچوں کا ماہانہ خرچ کم از کم پچاس ہزار (50000) روپے ہر ماہ نقددیا جائے۔
بصورت دیگر پہلی بیوی کا مہر ادا کرکے اسکو طلاق دے، لہٰذا قرآن و سنت اور شریعت میں، پہلی بیوی کے والد کی طرف سے پیش کی گئی شرائط کے متعلق شرعی حکم بیان کیا جائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔شریعت نے نکاح کے بعدمیاں بیوی پر ایک دوسرے کے حقوق لازم کیے ہیں،شادی سے پہلے بیوی کو منتخب
کرنے کا اختیار ہوتا ہے ، شادی کے بعد بغیر کسی شرعی عذر کے بیوی کو چھوڑنا سخت ترین گناہ ہے،اسی طرح کسی کو جبراً دوسری بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کرنابھی شرعاً درست نہیں، شریعت نے مرد کی فطری ضرورت کی بنا پر مرد کو چار نکاح کی اجازت دی ہے،البتہ اس کو پابند بنایاہے کہ اپنی بیویوں کے حقوق کا خیال رکھے،ان کے درمیان انصاف کرے،اور ظلم اور بے انصافی سے باز رہے ۔حدیث میں ایک بیوی کو دوسری بیوی کے طلاق کا مطالبہ کرنے سے منع کیا ہے۔
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی عورت کے لیے اپنی مسلمان بہن (یعنی سوکن) کی طلاق کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے، تاکہ اس کا حصہ بھی اس کو مل جائے حالانکہ اس کو وہی ملے گا جو اس کا حصہ ہے۔"
2۔اگر مرد مہر ،نفقہ اور رہائش دے چکاہے تو خاتون کے لیے محض دوسری شادی کو بہانہ بناکر مزید جگہ نام کرنے کے مطالبہ کا حق نہیں ہے،اگر مرد اپنی مرضی سے کسی بیوی کو مکان دینا چاہے،تو دے سکتاہے۔
3۔نان نفقہ میں شوہر اور بیوی دونوں کی حیثیت کا اعتبار ہوتا ہے، عرف میں ان دونوں کی حیثیت کے حامل لوگ جس طرح کپڑے پہنتے ہوں اور جس قسم کا کھانا کھاتے ہوں، اس طرح کے کپڑے اور کھانا بیوی کو دینا شوہر پر لازم ہوگا۔ لہٰذا اگر ان دونوں کی مالی حیثیت ایک جیسی ہو تو اسی حیثیت کے مطابق نان نفقہ دینا ہوگا اور اگر ان کی حیثیت مختلف ہو مثلا ایک مال دار اور دوسرا متوسط الحال یا غریب ہو تو پھر درمیانی حالت کا اعتبار کیا جائے گا، یعنی مال داروں سے کم اور متوسط الحال یا غریب سے زیادہ حیثیت کا نان نفقہ دیا جائے گا۔ کپڑوں کی مقدار اور معیار میں بھی میاں بیوی کی حیثیت اور ان کے عرف کا لحاظ رکھا جائے گا۔
لہٰذااگر شوہر کے مالی حالات اجازت دیتے ہوں تو 50 ہزار دینا جائز ہے،لیکن اگر اتنی استطاعت نہ ہو تو اس رقم پر شرعی طور پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ عورت کا شدید مجبوری کے بغیر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، حدیث میں
آتا ہے کہ ’’جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرےاس پر جنت کی خوش بو حرام ہے۔‘‘
پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ازدواجی زندگی کے پرسکون اور خوش گوار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ
میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، نبی کریم ﷺ نے شوہرکو اپنی اہلیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے:’’ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنی گھر والی کے ساتھ تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔‘‘
دوسری جانب بیوی کو بھی اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیا ، ارشاد نبوی ہے: ’’بالفرض اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘۔ بلا کسی ضرورت کے بیوی کا اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں، نبی کریم ﷺ نے شرعی وجہ کے بغیر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت کو منافق قرار دیا ہے۔
اگر شوہر کی دوسری شادی کرنے کے بعد از خود بیوی خلع یا طلاق کا مطالبہ کرے ،ا ور کسی صورت میں راضی نہ ہو ، اور نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے،تو ایسی صورت میں شوہر کے لیے طلاق دینے کی گنجائش ہو گی۔طلاق ہونے کی صورت میں شوہر ذمہ دار نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
صحيح البخاری (5/1978):
"عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل لامرأة تسأل طلاق أختها، لتستفرغ صحفتها، فإنما لها ما قدر لها."
الدر المختار (3/ 574-571):
باب النفقة: هي لغةً ما ينفقه الإنسان على عياله، وشرعا ( هي الطعام والكسوة والسكنى ) وعرفا هي الطعام ( ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة زوجية وقرابة وملك ) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو لأنها أصل الولد ( فتجب للزوجة ) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة، بحر ( على زوجها ) لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته……..….. ( بقدر حالهما ) به يفتى، ويخاطب بقدر وسعه، والباقي دين إلى الميسرة، ولو موسرا وهي فقيرة لا يلزمه أن يطعمها مما يأكل، بل يندب.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
20/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


