03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قاضی کا خود وکیل بن کرنکاح پڑھانا
88137نکاح کا بیاننکاح کی وکالت کابیان

سوال

میں دو عاقل، بالغ، باہوش گواہوں اور ایک عالم و فاضل قاضی صاحب کے ساتھ ایک جگہ موجود تھا، جبکہ لڑکی (جو کہ عاقلہ  اور بالغہ تھی) دوسرے شہر میں موجود تھی۔ قاضی صاحب نے فون پر نکاح پڑھایااور فون اسپیکر پر تھا تاکہ سب سن سکیں۔ قاضی صاحب، گواہ، لڑکی اور میں (لڑکا) بیک وقت نکاح کے الفاظ سن رہے تھے۔ قاضی صاحب کو مکمل یقین تھا کہ جس لڑکی کا نام لیا جا رہا ہے وہی لڑکی فون پر موجود ہے، کیونکہ قاضی صاحب ہمارے جاننے والے ہیں۔ لڑکے اور لڑکی دونوں کی رضا مندی شامل تھی، حق مہر طے پایا، ایجاب و قبول ہوا، قاضی صاحب نے نکاح پڑھایا، اور اس کے بعد نکاح کا خطبہ بھی پڑھا۔ لڑکا اور لڑکی تعلیم، حسب، نسب اور حسن کے اعتبار سے برابر ہیں۔ قاضی صاحب نے لڑکی کی طرف سے وکیل کا کردار ادا کیا۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نکاح شرعی طور پر مکمل ہو چکا ہے؟

تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ لڑکی نے قاضی کو نکاح کرنے کا وکیل بنایا تھا  اور قاضی لڑکا اور لڑکی دونوں کو ذاتی طور پر جانتا ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے بطور تمہید  یہ بات سمجھ لیں کہ والدین سے چھپ کر نکاح کر نا  حیا کے بالکل خلاف ہے ۔ نکاح  بڑوں کی راہنمائی اور سرپرستی میں کرنا چاہیے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جو نکاح اس طرح اپنی رائے سے والدین کی اجازت و مرضی کے بغیر کیے جاتے ہیں  وہ دیر پا نہیں ہوتے۔

   تاہم صورت مسئولہ میں لڑکی کا قاضی  کو نکاح کا وکیل بنانا درست ہے ، لہذا  وکالت منعقد اور درست ہونے کے بعد لڑکی کی طرف سے اس کے وکیل ، اور لڑکے(دولہے) کا دومرد گواہوں کی موجود گی میں نکاح کرلینا جائز اور درست ہے اور  چونکہ لڑکا لڑکی کے ہم پلہ (کفو) ہے یعنی خاندان،دینداری،مالداری اور پیشہ کےلحاظ سےلڑکی کے برابر ہے ، لہٰذا اس طرح نکاح کرنے سے نکاح منعقد ہو گیا ہے ۔بہتر یہ ہے کہ اگر یہ نکاح چھپ کر کیا گیا ہے تو  لڑکا لڑکی والدین کی رضا مندی شامل کرکے اعلانیہ طور پر دوسرا نکاح بھی کرلیں ۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 294): قال في الهندية:يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود۔

 الفتاوى الهندية (1/ 922):

ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى-وهوقول أبي يوسف-رحمه الله تعالى-آخراوقول محمد-رحمه الله تعالى-آخرا أيضا........ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح ،وفي البزازية ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكرا كانت أو ثيبا على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي ،فإن لم يكن صح النكاح اتفاقا، كذا في النهر الفائق.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب