03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“اگر تم نے فلاں مرد سے بات کی تو تم میری طرف سےآزاد ہو”کے الفاظ سے طلاق کا حکم
88079طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میں نے اپنی بیوی سے غصے میں کہا تھا "اگر تم نے فلاں مرد سے بات کی تو تم میری طرف سے آزاد ہو"،دو یا تین مرتبہ ایک ہی مجلس میں یہ دھمکی دی تھی،بعد میں میری بیوی نے اس مرد سے گفتگو کرلی،کیا طلاق واقع ہوگئی ہے؟اگر ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکور شوہر کی طرف سے اپنی بیوی کو کہے گئے الفاظ کہ "اگر تم نے فلاں مرد سے بات کی تو تم میری طرف سے آزاد ہو"،یہ تعلیقِ طلاق کے الفاظ ہیں،ان الفاظ کے کہنے سےایک طلاق بائن معلق ہوئی تھی،بعد میں جب عورت نے اس مرد سے بات کرلی تو ایک معلق طلاق واقع ہوچکی اورنکاح ختم ہوچکا۔اب اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نئے مہر کے ساتھ از سر نو نکاح کرنا ضروری ہےاور تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 420)

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

الفتاوى الهندية (1/ 472)

إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 352)

وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

21.محرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب