03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد ،کی، میراث ،کی تقسیم
88107میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

  ہم تین بھائی  اور چار بہنیں ہیں،یعنی سات بہن، بھائی ہیں، ہماری  والدہ محترمہ بھی  الحمدللہ حیات ہیں۔ شرعی لحاظ سے  مرحوم والد کی میراث کیسے تقسیم کی جائے  ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید واضح ہو کہ ميت كے ترکہ میں سے  سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد  مرحوم کے ذمہ واجب  قرض (اگر ہو )کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ترکہ کو  مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ بالاامورسرانجام دینےکےبعدوالدکی میراث اس طرح تقسیم کی جائے کہ والد کی کل میراث کے80حصےبنائے جائیں ۔جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 10 حصے ،ہر بیٹی  کو  7 حصے  اور  ہر بیٹے کو14حصے ملیں گے۔ فیصدی اعتبار سے 12.5%مرحوم کی بیوہ کو، 8.75%ہر بیٹی کو اور 17.5%ہر بیٹے کوملےگا۔

آسانی کےلئے درج ذیل نقشہ ملاحظہ فرمائیں :

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

بیوہ

10

12.5%

بیٹی 1

7

8.75%

بیٹی2

7

8.75%

بیٹی3

7

8.75%

بیٹی4

7

8.75%

بیٹا1

14

17.5%

بیٹا2

14

17.5%

بیٹا3

14

17.5%

مجموعہ

80

100%

حوالہ جات

[النساء: 11]

«‌يُوصِيكُمُ ‌اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ»

[النساء: 12

«فَإِنْ كانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِها أَوْ دَيْنٍ»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب