| 88107 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں،یعنی سات بہن، بھائی ہیں، ہماری والدہ محترمہ بھی الحمدللہ حیات ہیں۔ شرعی لحاظ سے مرحوم والد کی میراث کیسے تقسیم کی جائے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب قرض (اگر ہو )کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ترکہ کو مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ بالاامورسرانجام دینےکےبعدوالدکی میراث اس طرح تقسیم کی جائے کہ والد کی کل میراث کے80حصےبنائے جائیں ۔جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 10 حصے ،ہر بیٹی کو 7 حصے اور ہر بیٹے کو14حصے ملیں گے۔ فیصدی اعتبار سے 12.5%مرحوم کی بیوہ کو، 8.75%ہر بیٹی کو اور 17.5%ہر بیٹے کوملےگا۔
آسانی کےلئے درج ذیل نقشہ ملاحظہ فرمائیں :
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
بیوہ |
10 |
12.5% |
|
بیٹی 1 |
7 |
8.75% |
|
بیٹی2 |
7 |
8.75% |
|
بیٹی3 |
7 |
8.75% |
|
بیٹی4 |
7 |
8.75% |
|
بیٹا1 |
14 |
17.5% |
|
بیٹا2 |
14 |
17.5% |
|
بیٹا3 |
14 |
17.5% |
|
مجموعہ |
80 |
100% |
حوالہ جات
[النساء: 11]
«يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ»
[النساء: 12]
«فَإِنْ كانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِها أَوْ دَيْنٍ»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


