| 88108 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والد صاحب کے انتقال کےبعد خاندان میں سے کوئی فرد وراثت کی تقسیم میں رکاوٹ کا سبب بنے تو شریعت اس کےلئے کیا ہدایت دیتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کاحکم یہ ہے کہ مورِث کے انتقال کے بعد (اگر اس پر قرض وغیرہ ہو تو اسے ادا کرنے اور اس نے جائز مالی وصیت کی ہو تو اسے نافذ کرنے کے بعد)ورثاء میں جلدازجلدمیراث تقسیم کردی جائے؛ کیوں کہ متروکہ مال میں ورثاء کا حق ہوتاہے،ترکہ کوتقسیم ہونے سے روکنااوریہ سمجھناکہ وراثت کی تقسیم کی وجہ سے لوگ طعنہ دیں گے ،سنگین غلطی ہے، شریعت کے احکامات کے مقابلہ میں رسم ورواج اورلوگوں کی من گھڑت باتوں کاکوئی اعتبارنہیں۔
لہذا خاندان میں سے کسی فرد کا تقسیمِ میراث میں رکاوٹ بننا درست عمل نہیں ہے،بہتریہ ہے کہ انہیں سمجھایاجائے کہ میراث کی جلد تقسیم (خصوصاًجب کہ ورثاء تقسیم کامطالبہ بھی کررہے ہوں ) شرعی حکم ہےاوراس حکم کی بجاآوری لازم ہے۔ورثاء کے مطالبے کے باوجودکسی ایک وارث کامیراث تقسیم نہ ہونے دیناشرعی اعتبارسے ناجائز اورظلم ہے،جس کاگناہ تقسیم نہ کرنے والوں پر ہوگا۔
حوالہ جات
«مشكاة المصابيح» (2/ 926):
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


