| 88105 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میرے والد (جناب محمد امین ورک مرحوم) نے مکان کی تعمیر کے دوران اپنے دو بیٹوں سے کچھ رقم قرض کے طور پر لی تھی، تاکہ مکان کی تعمیر مکمل کی جا سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد جب میراث تقسیم کی جائے گی، تو وہ رقم جو دونوں بیٹوں نے بطورِ قرض دی تھی، کیا وہ اصل رقم کے ساتھ منافع سمیت ترکہ میں سے منہا کر کے واپس کی جائے گی؟یا صرف اصل قرض کی رقم منہا کی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے قرض پر نفع لیناشرعاً سود اور حرام ہے، اس سے اجتنا ب لازم ہے۔صورتِ مسئولہ میں صرف اصل قرض کی رقم منہا کر کےبیٹوں کو واپس کی جائے گی ۔
حوالہ جات
«مصنف ابن أبي شيبة» (11/ 425 ت الشثري):
«عن الحكم عن إبراهيم قال: كل قرض جر منفعة فهو ربا.»
«صحيح مسلم» (5/ 50):
عن جابر قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء ».
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (6/ 133):
«ولا يجوز قرض جر نفعا بأن أقرضه دراهم مكسرة بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاما في مكان بشرط رده في مكان آخر»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


