03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حمل ضائع کرنے کا حکم
88125جائز و ناجائزامور کا بیانخاندانی منصوبہ بندی

سوال

ایک اکیلی عورت جس کا شوہر بالکل نان نفقہ نہیں دیتا  ہو اور وہ  عورت اپنے بھائی سےخرچہ لیتی ہو۔اس کا شوہر نہ خرچہ دیتا ہےاور نہ ہی  مستقبل میں کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہے ۔ایسی صورت میں عورت کیا 20 دن کا حمل ضائع کر سکتی ہے ؟

نوٹ:اور وہ اپنے شوہر کے گھر میں رہتی بھی نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حمل کے بارے میں اصولی حکم یہ ہے کہ  بوقت ضرورت  عورت حمل روکنے کے لیے  مانع ِ حمل دوا استعمال کر سکتی ہے، اس کی گنجائش شریعت میں موجود ہے۔لیکن اگر حمل ٹھہر جائے، تو پھر بغیر کسی شدید ضرورت کے چار ماہ سے کم عمر کے حمل کو بھی گرانا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح بھوک، فاقہ اور معاشی مسائل کے خوف سے بھی حمل  ساقط کرنا جائز نہیں، کیونکہ تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والے ہیں۔ لہذا اس نظریہ سے حمل ساقط کر ناشر عانا جائز اور گناہ ہے۔

البتہ اگر کوئی سخت مجبوری یا شدید عذر موجود ہو، جیسے کہ عورت کی صحت اس قابل نہ ہو کہ وہ حمل برداشت کر سکے، تو ایسی صورت میں حمل گرانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

اصولی حکم کے بعد سوال میں پوچھی گئی صورت  کا حکم درج ذیل ہے:

الف۔اگر سائلہ کو یہ امید ہو کہ مستقبل میں اس کے  شوہر کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں، اور اس بات کا غالب گمان ہو کہ وہ شوہر کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرسکتی  ہے، نیز اگر خاندان کے بزرگوں کی مداخلت سے شوہر کو سمجھایا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے رشتہ  برقرار رکھنا ممکن ہو  ، تو ایسی صورت میں عورت کے لیے حمل گرانا جائز نہیں ہوگا۔

ب۔ اگر عورت کو یہ اندیشہ ہو، اور موجودہ حالات بھی اس کی تائید کرتے ہوں، کہ وہ آئندہ شوہر کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی، اور قوی امکان ہو کہ مستقبل میں  دونوں کے درمیان تفریق (علیحدگی) ہو جائے گی، اور مستقبل میں بچے کی پرورش، تعلیم و تربیت اور رہائش جیسے مسائل پیچیدہ ہوں گے، جس کی وجہ سے بچہ مستقبل میں شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوسکتا ہے، تو ایسی شدید مجبوریوں کی بنیاد پر حمل گرانے کی گنجائش دی جا سکتی ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 429):

ويكره أن تسقى لإسقاط حملها … وجاز لعذر حيث لا يتصور۔۔۔۔۔

 (قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 176):

قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

22 /محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب